مخالف پندرہ ماہ کے اندر مر جاوے گا۔ یعنی جو شخص فریقین سے راستی پر نہیں ہے پندرہ ماہ کے اندر بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جاوے گا۔ کتاب جنگ مقدس چھاپہ شدہ پیش کرتا ہوں۔ اور جس جگہ مرزا صاحب نے یہ پیش گوئی لکھی ہے نشان ۸ کر دیا ہے۔ بعد ازیں لوگوں کے خیالات عبداللہ آتھم صاحب کی طرف تھے۔ عبداللہ آتھم ضعیف آدمی تھا۔ بہت سے آدمی عبداللہ آتھم کی تیمارداری پر تھے۔ عبداللہ آتھم پر بہت حملہ کئے گئے جس سے اس کو اپنے مکان کی تبدیلی کرنی پڑی۔ وہ امرتسر سے لدہانہ اور لدہانہ سے فیروزپور گیا۔ پیش گوئی کے آخری دو ماہ میں عبداللہ آتھم کی خاص نگرانی بذریعہ پولس کرائی گئی۔ دن رات خاص حملہ جو کیا گیا ایک امرتسر میں ہوا تھا یعنی ایک سانپ (کوبرا) ایک برتن میں بند کر کے ایک شخص پادری عبداللہ آتھم عیسائی کے مکان میں ڈال گیا۔ گو ہم نے خود نہیں دیکھا۔ مگر یہ امر سچ ہے کہ وہ سانپ مارا گیا تھا۔ اور عام لوگ کہتے تھے۔ مسٹر آتھم نے بھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ ایسا ہوا۔ فیروزپور میں دو دفعہ عبداللہ آتھم کی طرف بندوق چلائی گئی۔ اور ایک مرتبہ عبداللہ آتھم کے سونے کے کمرہ کا دروازہ توڑا گیا* عرضؔ کریں۔ آخر بعض نے ان میں سے ایک نرم تقریر میں عرض کر دیا۔ تب انہوں نے کہا کہ اگر خداتعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیداکردہ اور بھی بہت سی دوائیں ہیں مَیں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں آخر چند روز کے بعد اگر واقعی میعاد کے اندر تین حملے ہماری طرف سے ہوئے تھے تو کیا خیال میں آ سکتا ہے کہ آتھم اور اس کے عزیز باوجود تین حملوں کے ایسے چپ رہتے کہ نہ نالش کرتے اور نہ اخباروں میں چھپواتے اور نہ ہمیں ضمانت کے لئے طلب کرواتے بلکہ میعاد گذرنے کے بعد اس وقت شور مچایا کہ جب آتھم کے ڈر جانے کے بارے میں پانچ ہزار اشتہار ہماری طرف سے نکلا تا کوئی بہانا نہ ہاتھ آجائے۔ اگر ہمارے اشتہار سے پہلے آتھم کی طرف سے کوئی تحریر شائع ہوئی ہے تو وہ پیش کرنی چاہئے۔ آتھم میعاد کے اندرجب کہ اس پر حملے ہوئے تھے کیوں چپ رہا اور پھر میعاد کے بعد ہمارے اشتہارات سے پہلے کیوں اس کے منہ پر قفل لگا رہا حاضرین جانتے ہیں کہ پیش گوئی کو سنتے ہی آثار خوف اُس پر ظاہر ہوگئے تھے۔ منہ