اعتراض بھی نہ کریں جو ان کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ مثلا اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہیے کہ اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے اور ان کی وجاہت اور مرتبہ کو نہ بھلا وے۔ ہاں وہ نہایت نرمی اور ادب سے اس طرح اعتراض کر سکتا ہے کہ خدا نے جو بیٹے کو دنیا میں بھیجا تو کیا یہ کام اس نے اپنی قدیم عادت کے موافق کیا یا خلاف عادت؟ اگر عادت کے موافق کیا تو پہلے بھی کئی بیٹے اس کے دنیا میں آئے ہوں گے اور مصلوب بھی ہوئے ہوں گے یا ایک ہی بیٹا بار بار آیا ہوگا۔ اور اگر یہ کام خلاف عادت ہے تو خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خدا اپنی ازلی ابدی عادتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ یا مثلاً یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کے گناہوں کے سبب سے خدا کی نظر میں *** ٹھہر گئے تھے کیونکہ *** کے معنے لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا اس شخص سے جس پر *** کی گئی ہے بیزار ہو جائے اور وہ شخص خدا سے بیزار ہو جائے اور دونوں میں باہم دشمنی واقع ہو جائے۔ اور شخص ملعون خدا کے قرب سے دور جا پڑے۔ اور یہ ذلیل حالت ایسے شخص کی کبھی نہیں ہو سکتی جو درحقیقت خدا کا پیارا ہے۔ اور جب کہ *** جائز نہ ہوئی تو کفّارہ باطل ہوا۔ غرض ایسے اعتراض جن میں معقول تقریر کے ساتھ کسی فرقہ کے عقائد کی غلطی کا اظہار ہو، ہر ایک محقق کا حق ہے جو نرمی اور ادب کے ساتھ پیش کرے اور حتی الوسع یہ کوشش ہو کہ وہ تمام اعتراضات علمی رنگ میں ہوں تا لوگوں کو ان سے فائدہ پہنچ سکے اور کوئی مفسدہ اور اشتعال پیدا نہ ہو۔
اور یہ خدا تعالیٰ کا شکر کرنے کا مقام ہے کہ ہم لوگ جو مسلمان ہیں ہمارے اصول میں یہ داخل ہے کہ گذشتہ نبیوں میں سے جن کے فرقے اور قومیں اور اُمتیں بکثرت دنیا ؔ میں پھیل گئی ہیں کسی نبی کی تکذیب نہ کریں کیونکہ ہمارے اسلامی اصول کے موافق خداتعالیٰ مفتری کو ہرگز یہ عزت نہیں بخشتا کہ وہ ایک سچے نبی کی طرح مقبول خلائق ہوکر ہزارہا فرقے اور قومیں اس کو مان لیں اور اس کا دین زمین پر جم جاوے اور عمر پائے لہٰذا ہمارا یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم تمام قوموں