کے نبیوں کو جنہوں نے خدا کے الہام کا دعویٰ کیا اور مقبول خلائق ہوگئے اور ان کا دین زمین پر جم گیا خواہ وہ ہندی تھے یا فارسی۔ چینی تھے یا عبرانی خواہ کسی اور قوم میں سے تھے درحقیقت سچے رسول مان لیں۔ اور اگر ان کی امتوں میں کوئی خلاف حق باتیں پھیل گئی ہوں تو ان باتوں کو ایسی غلطیاں قرار دیں جو بعد میں داخل ہوگئیں۔ یہ اصول ایک ایسا دلکش اور پیارا ہے جس کی برکت سے انسان ہر ایک قسم کی بدزبانی اور بدتہذیبی سے بچ جاتا ہے اور درحقیقت واقعی امر یہی ہے کہ جھوٹے نبی کو خدا تعالیٰ اپنے کروڑ ہا بندوں میں ہرگز قبولیت نہیں بخشتا اور اُس کو وہ عزت نہیں دیتا جو سچوں کو دی جاتی ہے اور صدیوں اور زمانوں میں اس کی قبولیت ہرگز قائم نہیں رہ سکتی بلکہ بہت جلد اس کی جماعت متفرق ہو جاتی اور اس کا سلسلہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔ سو اے دوستو اس اصول کو محکم پکڑو۔ ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔ نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بُردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں۔ اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کر سکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت کے رو سے چارہ جوئی کرے۔ مگر یہ مناسب نہیں ہے کہ سختی کے مقابل پر سختی کر کے کسی مَفْسَدَہ کو پیدا کریں۔ یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کر دی۔ اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔ مگر ہم اپنی عادل گورنمنٹ سے یہ بھی امید رکھتے ہیں کہؔ جو لوگ آئندہ مخالفانہ حملے توہین اور بدزبانی کے ساتھ ہم پر کریں یا ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یا قرآن شریف پر یا اسلام پر تو ان کی بدزبانی کا تدارک بھی واجب طور پر کیا جائے۔ اور ہم لکھ چکے ہیں اور پھر دوبارہ لکھتے ہیں کہ ہماری یہ جماعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیرخواہ ہے اور ہمیشہ خیر خواہ رہے گی۔ اور میری تمام جماعت کے لوگ درحقیقت غریب مزاج اور