صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے سامنے یہ عہد کرلیا ہے کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے اس لئے حفظ امن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام مخالف بھی اس عہد کے کاربند ہوں۔ اور یہی وجہ تھی کہ ہم نے عدالت کے سامنے اس بحث کو طول دینا نہیں چاہا حالانکہ ہمارے تمام سخت الفاظ جوابی تھے اور نیز ان کے مقابل پر نہایت کم۔ سو ہم نے جوابی طور کے سخت الفاظ کو بھی چھوڑنا چاہا۔ کیونکہ ہمارا مدت سے یہ ارادہ تھا کہ تمام قومیں مباحثات میں الفاظ کی سختی کو استعمال نہ کریں۔ اسی ارادہ کی وجہ سے ہم نے اس درخواست پر دستخط مسلمانوں کے کرائے ہیں جس کو عنقریب بحضور جناب نواب گورنر جنرل بہادر بھیجنے کا ارادہ ہے۔ سو مخالفین مذہب کو بذریعہ اس نوٹس کے عام اطلاع دی جاتی ہے کہ اس فیصلہ کے بعد وہ بھی مباحثات میں اپنی روشیں بدلالیں۔ اور آئندہ سخت اور جوش پیدا کرنے والے الفاظ اور ہتک آمیز الفاظ اپنے اخباروں اور رسالوں میں ہرگز استعمال نہ کریں۔ اور اگر اب بھی اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد انہوں نے اپنے سابق طریق کو نہ چھوڑا تو انہیں یاد رہے کہ ہمیں یا ہم میں سے کسی کو حق حاصل ہوگا کہ بذریعہ عدالت چارہ جوئی کریں۔ حفظ امن کے لئے ہر ایک قوم کا فرض ہے کہ فتنہ انگیز تحریروں سے اپنے تئیں بچائے پس جو شخص اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد بھی اپنے تئیں سخت الفاظ اورؔ بدزبانی اور توہین سے روک نہ سکے ایسا شخص درحقیقت گورنمنٹ کے مقاصد کا دشمن اور فتنہ پسند آدمی ہے۔ اور عدالت کا فرض ہوگا کہ امن کو قائم رکھنے کے لئے اس کی گوشمالی کرے۔ بحث کرنے والوں کے لئے یہ بہتر طریق ہوگا کہ کسی مذہب پر بے ہودہ طور پر اعتراض نہ کریں بلکہ ان کی مسلّم اور معتبر کتابوں کی رو سے ادب کے ساتھ اپنے شبہات پیش کریں اور ٹھٹھے اور ہنسی اور توہین سے اپنے تئیں بچاویں اور مباحثات میں حکیمانہ طرز اختیار کریں اور ایسے