وعدہ وعید کا تملّق و تعشّق آمیز بیان۔ ۱۰۸ ۔اس کی تعلیم خیالی لَا اُبالی زہریلی۔ خون کی پیاسی۔ ۱۰۹۔ پر از کذب و لاف گم از صداقت۔
متفرق۔ ۵۳۔ موسیٰ آتش پرست۔ ۱۳۵۔ سلیمان بت پرست زانی قاتل۔ موسیٰ قتل عام اور زنا کرانے والا۔ باکرہ چھوکریوں سے زنا بالجبر کرانے کا مرتکب۔ جھوٹا۔ ۱۳۹۔ نشان اسلام۔ قتل عام۔ اسلام دین بالجبر ویران کنندہ عالم۔ ۱۳۶۔ آدم خدا کا پالتو طوطی۔ ۱۴۰۔اسلامی بزرگ افترا پرداز۔ مسودہ باز، مشورہ باز۔ ۲۶۴۔ اسلام و دہریت توام۔
کتاب ثبوت تناسخ مصنفہ لیکھرام مطبوعہ مفید عام لاہور ۱۸۹۵ ء
۱۴۷۔ قرآنی خدا لوگوں سے تمسخر کرتا ہے۔ جعفر زٹلی کی طرح یا مُلّا دو پیازہ کی طرح ورنہ وہ فی الحقیقت ظالم و مکّار ہے۔ ۱۵۴ (اسلامی) خدا یا خود غرض ہے یا پاگل یا ظالم۔ ۱۵۷۔ قرآنی خدا رشوت خوار حاکم سے کم نہیں۔ ویدک خدا کے آگے خدائے محمدیان کی شامت ہے۔ ۱۶۹ آپ (ایک مسلمان) جس خاک پر ہر روز بول و براز کرتے ہیں وہ تمہارے بزرگوں کی خاک ہے۔۔۔۔۔۔گور میں ان کی خاک کو بچھو کیڑے کھاتے ہیں۔ خلق عالم جوتے پہنے ان کے سر پر گذرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ تمہارے بزرگوں نے کتوں کے قالبوں میں حلول کیا۔ ۱۷۱۔ غریب بے بضاعت خدا عرش کے بالاخانہ پر ہنوز چشمانش نگرانست کہ ملکش پریشان است کی طرح اوسان باختہ بیٹھا رہے گا۔ چند دنوں سے غریب بے بضاعت خدا نقش موہوم و مخیل کی طرح مداری بن۔ اپنے پیٹ سے انتڑیاں نکال۔ تماشا دکھلا۔ خدا بن بیٹھا۔ گدھا بلا سؤر کتا خرس پاخانہ خدا کو خود بنناؔ پڑا۔۔۔۔۔۔ ایسے مداری تماشا گر چھلیا۔ نقش موہوم بہروپیا بلکہ مخیل کا کیا اعتبار۔