ہماری نسبت میاں نذیر حسین دہلوی المعروف بہ شیخ الکل وہ فتویٰ جو ہماری تکفیر میں رسالہ اشاعۃ السنہ نمبر۵ جلد۱۳ میں شائع ہوا اس کے راقم اور استفتا کے مجیب یہی شیخ الکل ہیں۔ راقم فتویٰ یعنی میاں صاحب اس فتوے میں ذیل کے الفاظ میری نسبت استعمال کرتے ہیں۔ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۵ ۱۵۲ ۱۶۷ ۱۸۰ ۱۸۳ ۱۸۵ ؍؍ اہل سنت سے خارج۔ اس کا عملی طریق ملحدین باطنیہ وغیرہ اہل ضال کا طریق ہے۔اس کے دعوے و اشاعت اکاذیب اور اس ملحدانہ طریق سے اس کو تیس دجّالوں میں سے جن کی خبر حدیث میں وارد ہے ایک دجّال کہہ سکتے ہیں۔ اس کے پیرو ہم مشرب ذریات دجّال۔ خدا پر افترا باندھنے والا۔ اس کی تاویلات الحاد و تحریف کذب و تدلیس سے کام لینے والا۔ دجّال۔ بے علم۔ نافہم۔ اہل بدعت وضلالت۔ جو کچھ ہم نے سوال سائل کے جواب میں کہا اور قادیانی کے حق میں فتویٰ دیا وہ صحیح ہے۔۔۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے دجّال کذّاب سے احتراز کریں۔ اور اس سے وہ دینی معاملات نہ کریں۔ جو اہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں۔ نہ اس کی محبت اختیار کریں۔ اور نہ اس کو ابتداءً سلام کریں اور نہ اس کو دعوت مسنون میں بلاویں۔اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کے پیچھے اقتدا کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔۔۔ الخ شیخ محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ اشاعۃ السنہ نمبر یکم لغایت ششم جلد شانز دہم ۱۸۹۳ ؁ء