نے خدا کا ڈولہ اٹھایا ہوا ہے۔۔۔ وہ اگر کاندھے سرکاویں۔۔۔ تو بتلایئے۔۔۔ خدائے محمدیاں کسی غار میں گراپاویں۔۔۔ اور اگر گر کر مر جائے تو پھر مولا کون کہلائے۔ ۴۷۔ وہ شیطان سے مقابلہ کرنے میں ترساں ہے۔ ۵۶۔۵۷۔ جلّاد۔ ستمگار۔ ذابح الجاندار۔ ۲۲۲۔ ظالم۔ جبّار۔ غافل۔ خودغرض۔ بدفعلی اور پلیدی کا رہنما۔ بدچلنی اور فعل شنیعہ کا خدا۔ ۲۳۳۔ رشوت لینے والا۔ آدمی کی شکل والا۔ بالاخانہ پر بیٹھنے والا۔ فریب کھیلنے والا۔ شیطان سے ڈرنیوالا۔ ۲۴۰۔ موسیٰ والی آگ گویا اگنی دیوتا کی پرستش ہے۔ ۲۵۴۔ خدا بڑا ہی کاذب ہے یا جُوَا کھیلتا ہوگا جو جُفت طَاق کی قسم کھاتا ہے۔ ۲۵۶۔ اس کے قول و فعل قابل اعتماد نہیں۔ آنحضرت صلعم کی نسبت۔ حاشیہ صفحہ ۷۵۔ اہل مکہ سے صلح کے بعد کسی سبب سے جو طبیعت آزادہ ۱ ؂ ہوگئی تو جھٹ وہ آیت منسوخ کر دی کہ وہ خدا کا کلام نہیں شیطان کا کلام ہے۔ شیطان نے میرے منہ میں ڈال دیا تھا۔ ۱۳۵۔ قتل کرانے والا۔ بُت پرست۔ علمی کتابیں جلانے والا۔ بے نکاحی عورتوں سے جماع کرنے والا۔ اپنے الزام خدا کے ذمّے لگانے والا۔ ۱۴۱۔ علی نامی پہلوان کو رازدار بنانے کے لئے اپنی بیٹی نکاح کر دی۔ اور دو لڑکیاں عثمان کے حوالے کر کے دوسرا رازدار بنایا۔ ذوالنورین کا خطاب دے کر ڈبل دامادی کی زنجیر میں پھنسایا۔ اسی طرح عمر و ابوبکر سے یارانہ بنایا۔ کسی کو کسی طرح کسی کو کسی داؤ سے ملایا غرضیکہ پانچ پنجے مل کیجئے کاج۔ ہارئیے جیتئے آئے نہ لاج۔ ۱۶۵ؔ ۔ قتل عام اور ظلم و جور کرنے والا۔ ۲۴۴ شعبدہ باز۔ ۲۵۶قاصرالبیان ناواقف انجان۔ ۲۸۰ خدائی حدود کو توڑنے والا۔ قرآن شریف کی نسبت۔ ۳۵۔ آدم کا قصہ۔ الّم غلّم ولا نسلم تمسخر آمیز داستان۔ ۵۸۔ ایک قمارباز یا چور بھی اِیّاک نستعین پڑھ کر مدد مانگ سکتا ہے۔ ۶۰۔ آخر آیات سورہ فاتحہ سخت نقصان رساں اور خدا پر بہتان باندھنے والیں۔ قرآن میں شِیر شہد شراب ۔۔۔ پستانوں اور رُخساروں کے سوا روحانی سرور کا نام ندارد۔ ؂ ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے آزردہ کو آزادہ لکھا گیا ہے۔ ناشر