لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ لوگ ہر ایک مفسدہ اور فتنہ کے طریق سے مجتنب رہیں اور صبر اور برداشت کی عادت کو اور بھی ترقی دیں اور بدی کی تمام راہوں سے اپنے تئیں دور رکھیں اور ایسا نمونہ دکھلائیں جس سے آپ لوگوں کی ہر ایک نیک خلق میں زیادت ثابت ہو۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ جو اہل علم اور فاضل اور تربیت یافتہ اور نیک مزاج ہیں ایسا ہی کریں گے۔ مگر یاد رہے اور خوب یاد رہے کہ جو شخص ان وصیتوں پر کاربند نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے*۔
ہماری تمام نصیحتوں کا خلاصہ تین امر ہیں اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ کے حقوق کو یاد کر کے اس کی عبادت اور اطاعت میں مشغول رہنا۔ اس کی عظمت کو دل میں بٹھانا اور اس سے سب سے زیادہ محبت رکھنا اور اس سے ڈر کر نفسانی جذبات کو چھوڑنا اور اس کو واحد لاشریک جاننا اور اس کے لئے پاک زندگی رکھنا اور کسی انسان یا دوسری مخلوق کو اس کا مرتبہ نہ دینا۔ اور درحقیقت اس کو تمام روحوں اور جسموں کا پیدا کرنے والا اور مالک یقین ؔ کرنا۔ دوم یہ کہ تمام بنی نوع سے ہمدردی کے ساتھ پیش آنا۔ اور حتی المقدور ہر ایک سے بھلائی کرنا اور کم سے کم یہ کہ بھلائی کا ارادہ رکھنا۔ سوم یہ کہ جس گورنمنٹ کے زیر سایہ خدا نے ہم کو کر دیا ہے یعنی گورنمنٹ برطانیہ جو ہماری آبرو اور جان اور مال کی محافظ ہے اس کی سچی خیر خواہی کرنا اور ایسے مخالف امن امور سے دور رہنا جو اس کو تشویش میں ڈالیں۔ یہ اصول ثلاثہ ہیں جن کی محافظت ہماری جماعت کو کرنی چاہیے اور جن میں اعلیٰ سے اعلیٰ نمونے دکھلانے چاہئیں۔
اور یاد رہے کہ یہ اشتہار مخالفین کے لئے بھی بطور نوٹِس ہے۔ چونکہ ہم نے
میری جماعت میں بڑے بڑے معزز اہل اسلام داخل ہیں۔ جن میں بعض تحصیلدار اور بعض اکسٹرا اسسٹنٹ اور ڈپٹی کلکٹر اور بعض وکلاء اور بعض تاجر اور بعض رئیس اور جاگیردار اور نواب اور بعض بڑے بڑے فاضل اور ڈاکٹر اور بی اے اور ایم اے اور بعض سجادہ نشین ہیں۔ منہ