آنحضرؔ ت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا ہے:۔حیوان اور گدھے سے بدتر۔ بت پرست۔ بتوں کا دل و جان سے تعریف کرنے والا۔ کرامت و خوارق میں ابلیس سے کم۔ مسلمانوں کی عورتوں اور بیٹیوں کا پردہ عصمت پھاڑنیوالا۔ لائق نفرین۔ سخت شہوت پرست جسکی فضیلت و اکملیت کثرت زنا و مباشرت زنان شوہر دار پر منحصر ہے۔ جورو کے ساتھ ناچنے والا۔ رقّاص۔ مکّار۔ ہموارہ بکارہائے ناکارہ آوارہ۔ زشت۔ بد سرشت۔ سیہ مستی والا۔ زن پرست۔ دیّوث۔ زنان شوہر دار سے بلا نکاح ہمبستر ہونیوالا۔ شرافت سے تہید ست و مبّرا۔ کنیزک زادہ۔ لادوحیوان۔ گھوڑا۔ اونٹ۔ بیشمار دفعہ زنا کرنیوالا۔ غبی۔ زناکاروں کو عیب پوشی کے لئے فریب سکھلانیوالا۔ بدعہد۔ عہد شکن۔ معلم دروغ گوئی۔ تذویر و مکر کرنیوالا۔ متلون۔ ابلہ۔ سوگند شکن۔ شہوت ران۔ نافرمان۔ زنا صریح کرنیوالا۔ بے دین۔ بد آئین۔ محمد بود یک شہوت پرستے۔ زصہبائے ہوس مخمور مستے ۔ بدیدے گرزنے یوسف فریبے۔ بلا کابیں و مہرش دل بہ بستے۔ اجنبی عورتوں سے ناگفتنی باتیں کرنے والا۔ شریر۔ دروغ گو۔ معلم المکر۔ذلیل و خوار۔ جس کا مرنا خس کم جہاں پاک کا مصداق۔ بزدل۔ نامرد۔ پلید۔مخالفوں کے ہاتھ سے پاپوش کھانے والا۔ پیرمغاں۔ شرافت محمد سرمایہ شرو آفت۔ عشقباز۔ بدچلن۔ اُس میں اور کافر میں کیا فرق ہے۔ بی بی عائشہ کے ساتھ ناچنے والا۔ زوجہ خدا۔ بول و براز کھانے والا۔ موچی۔ سیہ کار۔ بے حد زناکار۔ عشق باز۔ ابلیس میں اور اس میں کچھ فرق نہیں۔ سیہ مستی اور شہوت پرستی میں محو۔ نادان۔ غلط بیان۔ خرپا بگل۔چرندہ۔ ابلیس پُر تلبیس اور پیغمبر نفیس میں کیا فرق ہے۔
دیگر انبیاء اسلام علیہم السّلام کی نسبت۔ پیغمبر گنہگار تھے۔ موسیٰ و عیسیٰ سب خطاکار ہیں۔ یوسف نے زلیخا کو برہنہ کیا۔ وہ مشہوت و زانی تھا۔ اس نے اپنی مالکہ کی فرج میں دخول کیا۔ تمام پیغمبر گلہ بانوں سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتے۔ وہ شریف نہیں خوار و ذلیل تھے۔ وہ عورتوں کے ننگ و ناموس کے پردہ کو پھاڑتے رہے۔ خونریزی
دیکھو صفحہ ۵۳، ۸۰، ۸۱، ۸۲، ۸۷، ۸۸، ۹۴، ۹۵، ۹۶، ۱۲۱، ۱۲۳، ۱۲۸، ۱۴۳، ۱۴۷، ۱۵۰، ۱۵۵، ۱۶۶، ۱۶۷، ۱۷۵، ۱۷۶، ۱۸۱، ۱۸۶، ۱۸۵، ۱۸۷، ۱۸۹،۱۸۸، ۲۰۵، ۲۰۹، ۲۳۵، ۲۶۳، ۲۶۴، ۲۷۴، ۲۷۵، ۲۸۸، ۳۱۱، ۳۳۲، ۳۵۴، ۳۵۶۔
۵۲، ۵۸، ۶۸، ۶۹، ۹۵، ۹۶، ۱۲۶، ۳۰۵، ۳۴۵،