گذشتؔ ۔ دلش از ہوائے زناں برنگشت۔ چند زنان غمزہ زناں را بے نکاح و خطبہ در آغوش کشید و از زناکاری اصلا نہ ترسید۔ ۴۶ خدائے مسلمانان عجب مشربے دارد کہ چنیں کس را کہ بنائے زنا بے انتہا افگند ۔۔۔ برائے رسالت برمیگزیند ؂ مرادر پیش فکر اختصار است چساں حرکات احمد برشمارم۔۔۔ زنا شعارانبیاست۔۔۔ از اینجاست کہ محمد را با وصف جہالت جبلی و ضلالت فطری رسول مقبول پندارند۔ ۴۸ (اسلام کے خدائے تعالیٰ کی نسبت لکھا ہے) خر و خنزیر و خرس وبوز نہ گشت۔ زنا دانی گرفتہ شکل حیواں۔۔۔ خود گرگ و شغال و خرس و خنزیر شدہ۔ درشکل خبیث جلوہ آرائی کردہ۔ ہم کہاں تک اس شخص کی گندہ دہانی کی نقل کرتے جائیں۔ یہ کتاب ۳۸۰ صفحہ پر ہے اور یہاں پچاس صفحوں کا جو اقتباس کیا گیا ہے اس میں سے بھی بے تعداد گالیاں چھوڑ دی گئیں ہیں۔ غرض کہ اس مصنف نے ہمارے خدا کو۔ ظالم۔ بے ہودہ۔ جابر۔ لاف گذاف بکنے والا۔ نخوت کرنے والا۔ فاسد۔ فاجر۔ ہوا و ہوس میں گرفتار۔ ملعون۔ خشک و سوختہ۔ مکّار۔ فریبی مکر اور فریب میں اُستاد۔ معطل۔ عزرائیل کے ہاتھ سے مرنیوالا۔ فرعونی راہ میں چلنے والا معلم مکرو تذویر۔ سخت بیوقوف۔ سخت احمق۔ دروغ گو شیطان سے فریب کھانے والا بد اصل۔ مکّار۔ عیّار۔ ستم گار۔ متلون مزاج۔ ابلہ۔ مثل ابلیس۔ کاذب۔ شیطان کی طرح مکر سکھلانے والا۔ بے عقل۔ ناپاک۔ امرد۔ گدھے سوار۔ کافر۔ زانی۔ مغلم۔ فاجر مورد ***۔ خالق کذب و دروغ۔ بدعہد۔ زنا کا الہام بھیجنے والا۔ اسباب شہوت پیدا کرنے والا۔ زنا و اغلام و سرقہ کا موجد۔ مریض مالیخولیا قرار دیا ہے۔ دیکھو صفحہ ۵۱، ۵۲، ۵۳، ۵۵، ۵۶، ۶۲، ۶۴، ۱۰۷، ۱۳۱، ۱۵۰، ۱۶۶،۲۰۴، ۲۵۰، ۳۲۰، ۳۱۱، ۸۹۔