و ناؔ حق قتل کرنے والے۔ حضرت ابراہیم مکّار و کذّاب۔ انبیاء احمق و مشرک۔ ادریس مکّارانہ چال چلا۔ ادریس مکّار فریبی۔ ادریس اور ابلیس میں کچھ فرق نہیں۔ ابلیس اس سے افضل۔ مسلمانوں کے پیغمبروں کو مسیلمہ کذّاب پر ترجیح نہیں- دُختر فروش۔ ازواج مطہرہ آنحضرتؐ کی نسبت۔ زنان پیغمبر ۔۔۔ بازاری عورتوں سے ذلیل۔ بلکہ بازاری عورتیں ان سے بہتر۔ مرتکب حرکات ناکارہ۔ عائشہ نے طلحہ سے زنا کیا۔ عائشہ بے حیا۔ خیرہ را۔ صحابہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت۔ خلیفہ دوم۔ منی خور۔ اغلام کرانے والا۔ صحابہ رسول کے ازواج رسول کو نظر بد سے دیکھنے والے۔ کمینہ و دیوث۔ علی غدار۔ بڑا مکّار۔۔۔ صحابہ رسول تلبیس ابلیس میں تندہ۔ قتل بندگان خدا میں مصروف۔ آنحضرت صلعم کے زمانہ کی دوسری مستورات مومنات کی نسبت۔ مسلمانوں کی عورتیں اور بیٹیاں بازار میں اجرت لے کر زناکاری کرتی تھیں۔ مدینہ کی لڑکیاں ننگ و ناموس ترک کرنے والیں۔ بعض مومنات خرچی لے کر سو سو آدمیوں سے روزمرہ زنا کراتی تھیں۔ ائمہ اربعہؓ کی نسبت۔ ابو حنیفہ نے ماں سے جماع و نکاح جائز کیا۔ وہ ماں بہن بیٹی سے زنا کو بُرا نہیں سمجھتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ماں سے زنا کیا اور داد دیوثی کی دی۔ اس کے نزدیک لواطت بُری نہیں۔ جب امام کو اغلام کے لئے لڑکا نہ ملا تو جورو سے لواطت کی۔ امام مالک مرتکب لواطت ہوا۔ امام شافعی کے نزدیک بھی جائز ہے۔ ابوحنیفہ موروثی دیوث و بے حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیگر بزرگان دین کی نسبت۔ مؤلّف تفسیر عزیزی بے تمیز۔ مسلمانوں کے ۹۲، ۱۶۵ ۱۵۸، ۱۶۷ ۱۰۲، ۱۱۶، ۱۵۵، ۱۶۳، ۱ ۱۸ ۱۵۵، ۱۵۶، ۱۷۳ ۹۷، ۹۸، ۹۹، ۱۰۱، ۱۰۲، ۱۰۶