اور دیانند اور پادری عماد الدین کی کتابیں اور پرچہ نورافشاں لودیانہ کے اکثر مضمون ہیں فتنہ اور اشتعال کا سخت احتمال تھا مگر چونکہ ان کتابوں کے مقابل پر کتابیں تالیف ہوئیں اور سخت باتوں کا جواب کسی قدر سخت باتوں کے ساتھ ہوگیا اس لئے مسلمانوں کے عوام کا جوش اندر ہی اندر دب گیا۔
یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے کہ اس قوم کے جاہلوں کا غیظ و غضب کوئی اور راہ اختیار کرے۔ مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سختؔ حملوں کا سخت جواب دیں۔ لیکن یہ طرز پھر بھی کچھ بہت قابل تعریف نہیں بلکہ اس سے تحریرات کا روحانی اثر گھٹ جاتا ہے اور کم سے کم نقصان یہ ہے کہ اس سے ملک میں بداخلاقی پھیلتی ہے۔ یہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ عام طور پر ایک سخت قانون جاری کر کے ہر ایک مذہبی گروہ کو سخت الفاظ کے استعمال سے ممانعت کردے تاکہ کسی قوم کے پیشوا اور کتاب کی توہین نہ ہو۔ اور جب تک کسی قوم کی معتبر اور مسلم کتابوں سے واقعات صحیحہ معلوم نہ ہوں جن سے اعتراض پیدا ہو سکتا ہو کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔ ایسے قانون سے ملک میں بہت امن پھیل جائے گا اور مفسد طبع فتنہ انگیز لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور تمام مذہبی بحثیں علمی رنگ میں آجائیں گی۔ اسی غرض سے میں نے ایک درخواست گورنمنٹ میں پیش کرنے کے لئے طیار کی ہے اس کے ساتھ کئی ہزار مسلمانوں کے دستخط بھی ہیں مگر چونکہ اب تک کافی دستخط نہیں ہوئے اس لئے ابھی تک توقف ہے۔ مگر درحقیقت یہ ایسا کام ہے کہ ضرور اس طرف گورنمنٹ کی توجہ چاہیے۔ حفظ امن کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ ہتک آمیز اور فتنہ انگیز الفاظ سے ہر ایک قوم پرہیز کرے۔ اور کسی مذہب پر وہ الزام نہ لگائے جس کو اس مذہب کے حامی قبول نہیں کرتے اور نہ ان کی مسلّم اور معتبر کتابوں میں اس کا کوئی اصل صحیح پایا جاتا ہے۔ اور نہ ایسا الزام