نصائح و مواعظ سے مدد لیا کرتا تھا۔
۲۸۳
جب وہ برسر حکومت و دسترس تھا اس نے دنیوی خواہشات و اغراض کی طرف میلان ظاہر کیا۔
۲۸۴
اس کے دور حیات کے اخیر وقت تک اس کو ایک خاص قسم کے خبط و خفقان سے کم و بیش متحیر و حیران کرتی رہی۔ اور اسی دھوکے اورفریب دینے والے یقین میں مرگیا کہ میں ایک پیغمبر ہوں۔
اخبار نور افشاں۔ امریکن مشن پریس لودیانہ
مطبوعہ ۱۳؍ مارچ ۹۶ء
صفحہ ۵
(ایک محمدی ملّا جس نے بقول اخبار مذکور اپنے مرید کی عورت کو خوبصورت دیکھ کر حکمت عملی سے طلاق دلوائی اور اپنے نکاح میں لایا اس کا ذکر کر کے لکھا ہے) اس محمدی ملّا کا فعل ہم کو تعجب میں نہیں ڈالتا کیونکہ ملّا نے عین اپنے پیغمبر کی پیروی کی ہے۔
۱۲؍ جون ۹۶ء صفحہ ۸
محمد کے پاس جو وحی آتی تھی وہ بھی دیوتا لاتے تھے۔
۱۹؍ جون ۹۶ء صفحہ ۱
ظلم و ستم سے مذہب پھیلانیوالے (مسلمان) ضرور گدھے اور انکا یہ عمل گدھا پن ہے۔
صفحہ۶
محمد صاحب خود بھی حسن پرست اور عاشق مزاج تھے (ایک قصہ نقل کر کے کہ آنحضرت نے اپنیؔ بیٹی فاطمہ کو بوسہ دیا اخبار نویس نے نتیجہ نکالا ہے) محمد نے اگرچہ چالاکی سے جواب کو بنایا۔۔۔۔۔۔ اگر عائشہ محمد کو ناجائز حرکات (بقول اخبار نویس اپنی بیٹی کو نظر بد سے چومنا) میں مصروف نہ دیکھتی۔۔۔۔۔۔ ان حرکات (بیٹی کو بوسہ دینا) میں اعتدال سے بڑھ کر تعشق کی کثرت پائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ جب فاطمہ حور قرار دی گئی تو وہ اب کس کی حور سمجھی جائے۔ اور حور کا انسان کی صورت میں اس جہاں میں کیا کام ہو سکتا ہے۔
۲۵؍ ستمبر ۹۶ء
صفحہ ۹
اب کوئی نہ کہے کہ محمد حفصہ کے گھر ماریہ لونڈی سے ایسا ویسا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کے (مسلمان کے) قول و ایمان کے مطابق اگر عورات سچ مچ جوتیاں ہیں تو مہربانی سے فرمائیے