کہ عبداللہ کی عورت آمنہ عبداللہ کے واسطے جوتی تھی یا نہیں جس کا ظہور محمد ہے۔ پھر محمد کی عورتیں مومنین کی مائیں کہلاتی ہیں مگر چونکہ وہ عورتیں ہیں اس لئے وہ جوتیاں ہیں۔ بعد وفات محمد کوئی ان کو نکاح میں نہ لا سکتا تھا۔ اب مومنین ان کو کیا کریں گے۔ سر پر ماریں گے ۔۔۔ حضرت نے بیوہ۔ کنواری۔ مطلقہ کوئی نہ چھوڑی حتّٰی کہ متبنّٰی کی چاہیتی کو بھی نہ چھوڑا ۔۔۔ اس بدتہذیبی کا رواج دینے والا محمد تھا۔
صفحہ ۱۰
عرب کی تمام منکوحہ عورات بھی کسبیاں ہیں۔
۱۸؍ دسمبر۹۶ء صفحہ ۹
(گنہگار قوم کی علامات۔ قوم کے بزرگوں کا جھوٹ بولنا۔ خون کرنا۔ لوٹ اور رہزنی کو جائز سمجھنا۔ زنا کرنے کو خوشخبری سمجھنا۔ مشت زنی خاص طور کرنا گُنہ نہ جاننا۔ ہر ایک کے ساتھ شیطان کا ہونا۔ اُس قوم کا جہنمی ہونا۔ ان علامات کا ذکر کر کے اخبار نویس لکھتا ہے) غرض یہ کہ قوم محمد گناہ کرنے کو قوم بنائی گئی۔۔۔ پس اَغلب ہے کہ یہ قوم وہی قوم ہو۔۔۔
تفتیش الاسلام مصنفہ پادری راجرس ۱۸۷۰ ء
صفحہ ۲۲
بعدازاں اس پر بھی اکتفا نہ کر کے اس نے (آنحضرتؐ) اپنے خیالات اور توہمات سے ایک نیا مذہب مصنوعی ایجاد کیا۔
۴۹ ؔ
قرآن کی جھوٹی آیتیں۔ قرآن میں بہت سی آیتیں لغو ہیں۔
۵۲
قرآن و احادیث کی واہیات اور ناپاک تعلیموں کا بیان۔
۵۴
محمد نے اس آیت کے بہانے جہاد کرنا اور لوٹنا شروع کر دیا۔ یہاں سے اس کے دل کا کپٹ اور دغابازی ظاہر ہوتی ہے۔
۵۶، ۵۷
یہ سب محمد کی بناوٹ اور گھڑت ہے۔ وہ (آنحضرتؐ) ایک نفس پرست آدمی تھا۔
۵۸
لیکن جب (آنحضرتؐ) عشق کے سبب زیادہ جدائی برداشت نہ ہو سکی تو قرآن میں