نہایتؔ ضروری عرضداشت
قابل توجہ گورنمنٹ
چونکہ ہماری گورنمنٹ برطانیہ اپنی رعایا کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتی ہے اور اس کی شفقت اور رحمت ہر ایک قوم کے شامل حال ہے لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم ہر ایک درد اور دکھ اس کے سامنے بیان کریں اور اپنی تکالیف کی چارہ جوئی اس سے ڈھونڈیں۔ سو ان دنوں میں بہت تکلیف جو ہمیں پیش آئی وہ یہ ہے کہ پادری صاحبان یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر ایک طرح سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کریں گالیاں نکالیں بے جا تہمتیں لگاویں اور ہر ایک طور سے توہین کر کے ہمیں دکھ دیں اور ہم ان کے مقابل پر بالکل زبان بند رکھیں۔ اور ہمیں اس قدر بھی اختیار نہ رہے کہ ان کے حملوں کے جواب میں کچھ بولیں۔ لہٰذا وہ ہماری ہر ایک تقریر کو گو کیسی ہی نرم ہو سختی پر حمل کر کے حکّام تک شکایت پہنچاتے ہیں۔ حالانکہ ہزار ہا درجہ بڑھ کر ان کی طرف سے سختی ہوتی ہے۔
ہم لوگ جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خداتعالیٰ کا سچا نبی اور نیک اور راستباز مانتے ہیں تو پھر کیونکر ہماری قلم سے ان کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں۔ لیکن پادری صاحبان چونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے جو چاہتے ہیں منہ پر لاتے ہیں۔ یہ ہمارا حق تھا کہ ہم ان کے دل آزار کلمات کی اپنی گورنمنٹ عالیہ میں شکایت پیش کرتے اور داد رسی چاہتے۔ لیکن انہوں نے اول تو خود ہی ہزاروں سخت کلمات سے ہمارے دل کو دکھایا اور پھر ہم پر ہی الٹی عدالت میں شکایت کی کہ گویا سخت کلمات اور توہین ہماری طرف سے ہے۔ اور اسی بنا پر وہ خون کا مقدمہ اٹھایا گیا تھا جو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپورہ کے محکمہ سے خارج ہو چکا ہے۔