خوف کا اقرار کر کے پھر افترا کے طور پر خوف کی وجہ ان ہمارے فرضی حملوں کو ٹھہرایا جو صرف اسی کے دل کا منصوبہ تھا حالانکہ اس نے پندرہ مہینے تک یعنی میعاد کے اندر کبھی ظاہر نہ کیا کہ ہم نے یا ہماری جماعت میں سے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔ اگر ہماری طرف سے اس کے قتل کرنے کے لئے حملہ ہوتا تو حق یہ تھا کہ میعاد کے اندر اسی وقت جب حملہ ہوا تھا شور مچاتا اور حکّام کو خبر دیتا۔ اگر ہماری طرف سے ایک بھی حملہ ہوتا تو کیا کوئی قبول کر سکتا ہے کہ اس حملہ کے وقت عیسائیوں میں شور نہ پڑ جاتا۔ پھر جس حالت میں آتھم نے میعاد گذرنے کے بعد یہ بیان کیا کہ میرے قتل کرنے کے لئے مختلف وقتوں اور مقاموں میں تین حملے کئے گئے تھے یعنی ایک امرتسر میں اور ایک لدھیانہ میں اور ایک فیروزپور میں توکیا کوئی منصف سمجھ سکتا ہے کہ باوجود ان تینوں حملوں کے جو خون کرنے کیلئے تھے آتھم اور اس کا داماد جو اکسٹرا اسسٹنٹ تھا اور اس کی تمام جماعت چپ بیٹھی رہتی اور حملہ کرنیوالوں کا کوئی بھی تدارک نہ کراتی اور کم سے کم اتنا بھی نہ کرتی کہ اخباروں میں چھپوا کر ایک شور ڈالدیتی اور اگر نہایت نرمی کرتی تو سرکار سے باضابطہ میری ضمانت سنگین طلب کرواتی۔ کیا کوئی دل قبول کرلے گا کہ میری طرف سے تین حملے ہوں اور آتھم اور اس کی جماعت سب کے سب چپ رہیں بات تک باہر نہ نکلے؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے خاص کر جس حالت میں میرے حملوں کا ثبوت میری پیشگوئیوں کی ساری قلعی کھولتا تھا اور عیسائیوں کو نمایاں فتح حاصل ہوتی تھی پس آتھم نے یہ جھوٹے الزام اسی لئے لگائے کہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر اس کا خائف اور ہراساں ہونا ہر ایک پر کھل گیا تھا وہ مارے خوف کے مرا جاتا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آثار خوف اس پر اس طرح ظاہر ہوئے ہوں جیسا کہ یونس کی قوم پر ظاہر ہوئے تھے۔ غرض اس نے الہامی شرط سے فائدہ اٹھایا مگر دنیا سے محبت کر کے گواہی کو پوشیدہ رکھا اور قسم نہ کھائی اور نالش نہ کرنے سے ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ضرور خداتعالیٰ کے خوف اور اسلامی عظمت سے ڈرتا رہا۔ لہٰذا وہ اخفائے شہادت کے بعد دوسرے الہام کے موافق جلد تر فوت ہوگیا۔ بہرحال یہ مقدمہ کہ جو اس خوش قسمت اور نیک فطرت بزرگ کا مقدمہ ہے آتھم کے مقدمہ سے بالکل ہم شکل ہے اور اس پر روشنی ڈالتا ہے۔ خداتعالیٰ اس بزرگ کی خطا کو معاف کرے اور اس سے راضی ہو میں اس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں۔ چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اس کے حق میں دعائے خیر کرے۔ اللّٰھم احفظہ مِنَ البلایا والآفات۔ اللّٰھم اعصمہ من المکروھات۔ اللّٰھم ارحمہ و انت خیر الراحمین آمین ثم آمین۔
الراقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں۔ ۲۰؍نومبر ۱۸۹۷ ء