اس لئے قرین مصلحت ہے کہ ہم اپنی عادل گورنمنٹ کو اس بات سے آگاہ کریں کہ جس قدر سختی ؔ اور دل آزاری پادری صاحبوں کی قلم اور زبان سے اور پھر ان کی تقلید اور پیروی سے آریہ صاحبوں کی طرف سے ہمیں پہنچ رہی ہے ہمارے پاس الفاظ نہیں جو ہم بیان کر سکیں۔
یہ بات ظاہر ہے کہ کوئی شخص اپنے مقتدا اور پیغمبر کی نسبت اس قدر بھی سننا نہیں چاہتا کہ وہ جھوٹا اور مفتری ہے اور ایک باغیرت مسلمان بار بار کی توہین کو سن کر پھر اپنی زندگی کو بے شرمی کی زندگی خیال کرتا ہے تو پھر کیونکر کوئی ایمانداراپنے ہادی پاک نبی کی نسبت سخت سخت گالیاں سن سکتا ہے۔ بہت سے پادری اس وقت برٹش انڈیا میں ایسے ہیں کہ جن کا دن رات پیشہ ہی یہ ہے کہ ہمارے نبی اور ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہیں۔ سب سے گالیاں دینے میں پادری عماد الدین امرتسری کا نمبر بڑھا ہوا ہے وہ اپنی کتابوں تحقیق الایمان وغیرہ میں کھلی کھلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور دغاباز۔ پرائی عورتوں کو لینے والا وغیرہ وغیرہ قرار دیتا ہے اورنہایت سخت اور اشتعال دینے والے لفظ استعمال کرتا ہے۔ ایسا ہی پادری ٹھاکر داس سیرۃ المسیح اور ریویو براہین احمدیہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام شہوت کا مطیع اور غیر عورتوں کا عاشق۔ فریبی۔ لٹیرا۔ مکّار۔ جاہل۔ حیلہ باز۔ دھوکہ باز۔ رکھتا ہے۔ اور رسالہ دافع البہتان میں پادری رانکلین نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ شہوت پرست تھا۔
محمد کے اصحاب زناکار۔ دغاباز۔ چور تھے۔ اور ایسا ہی تفتیش الاسلام میں پادری راجرس لکھتاہے کہ محمد شہوت پرست۔ نفس امّارہ کا ازحد مطیع۔ عشق باز۔مکّار۔ خونریز اور جھوٹا تھا۔ اور رسالہ نبی معصوم مصنفہ امریکن ٹریکٹ سوسائٹی میں لکھا ہے کہ محمد گنہگار۔ عاشق حرام یعنی زنا کا مرتکب۔ مکّار۔ ریاکار تھا۔ اور رسالہ مسیح الدجال میں ماسٹر رام چندر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہتا ہے کہ محمد سرغنہ ڈکیتی تھا اور لٹیرا۔ ڈاکو۔ فریبی۔ عشق باز۔ مفتری۔ شہوت پرست۔ خونریز۔ زانی۔ اور کتاب سوانح عمری محمد صاحب