ایک مقبول الٰہی کے منہ سے وہی کلمہ سن کر مجھے کچھ خیال نہ ہو۔
پس یہ ظاہری خطرات مجھ کو اس خط کے تحریر کرتے وقت سب کے سب اڑتے ہوئے دکھائی دئیے۔ (جن کی تفصیل کبھی میں پھر کروں گا) اس وقت تو میں ایک مجرم گنہگاروں کی طرح آپ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں (مجھ کو حاضر ہونے میں بھی کچھ عذر نہیں مگر بعض حالات میں ظاہر حاضری سے معاف کیا جانے کا مستحق ہوں) شاید جولائی ۱۸۹۸ ء سے پہلے حاضر ہی ہو جاؤں۔
امید کہ بارگاہ قدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ 3 ۱ ۔ قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمداً و جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابل راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔ فاعفوا واصفحوا ان اللّٰہ یحبّ المحسنین۔
میں ہوں حضور کا مجرم
(دستخط بزرگ) راولپنڈی۔ ۲۹؍ اکتوبر ۹۷ء‘ ‘
یہؔ خط بزرگ موصوف کا ہے جس کو ہم نے بعض الفاظ تذلّل و انکسار کے حذف کر کے چھاپ دیا ہے اس خط میں بزرگ موصوف اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کو اس عاجز کی قبولیت دعا کے بارے میں الہام ہوا تھا۔ اور نیز اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے خارجاً بھی آثار خوف دیکھے جن کی وجہ سے زیادہ تر دہشت ان کے دل پر طاری ہوئی اور قبولیت دعا کے نشان دکھائی دئیے۔ پس اس جگہ یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ ڈپٹی آتھم کی نسبت جو کچھ شرطی طور پر بیان کیا گیا تھا وہ بیان بالکل اس بیان سے مشابہ ہے جو اس بزرگ کی نسبت کیا گیا یعنی جیسا کہ اس عذابی پیشگوئی میں ایک شرط رکھی گئی تھی ویسا ہی اس میں بھی ایک شرط تھی اور ان دونوں شخصوں میں فرق یہ ہے کہ یہ بزرگ ایمانی روشنی اپنے اندر رکھتا تھا اور سچ سے محبت کرنیکی سعادت اس کے جوہر میں تھی لہٰذا اس نے آثار خوف دیکھ کر اور خداتعالیٰ سے الہام پاکر اس کو پوشیدہ کرنا نہ چاہا اور نہایت تذلّل اور انکسار سے جہاں تک کہ انسان تذلّل کر سکتا ہے تمام حالات صفائی سے لکھ کر اپنا معذرت نامہ بھیج دیا۔ مگر آتھم چونکہ نور ایمان اور جوہر سعادت سے بے بہرہ تھا اس لئے باوجود سخت خوفناک اور ہراساں ہونے کے بھی یہ سعادت اس کو میسر نہ آئی اور