خدا سے یہ الہام پاکر اور آثار خوف دیکھ کر نہایت انکسار اور تذلل سے معذرت کا خط لکھا۔ وہ خط کسی قدر اختصار سے پرچہ چودھویں صدی ماہ نومبر ۱۸۹۷ ء میں چھپ بھی گیا ہے۔ مگرچونکہ اس اختصار میں بہت سے ایسے ضروری امور رہ گئے ہیں جن سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ کیونکر خداتعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کرتا اوران کے دلوں پر رعب ڈالتا اور آثار خوف ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خط کو جو میرے پاس پہنچا تھا بعض ضروری اختصار کے ساتھ شائع کر دوں۔ اور بزرگ موصوف کا یہ اصل خط اس وجہ سے بھی شائع کرنے کے لائق ہے کہ میں اس اصل خط کو بہت سے لوگوں کو سنا چکا ہوں اور ایک جماعت کثیر اس کے مضمون سے اطلاع پاچکی ہے اور بہت سے لوگوں کو بذریعہ خطوط اسکی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ اب جبکہ چودھویں صدی کے پرچہ کو وہ لوگ پڑھیں گے توضرور ان کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوں گے کہ جو کچھ زبانی ہمیں سنایا گیا اس میں کئی ایسی باتیں ہیں جو شائع کردہؔ خط میں نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ ہمارے بعض کوتہ اندیش مخالفوں کو یہ بہانہ ہاتھ آجائے کہ گویا ہم نے نج کے خط میں اپنی طرف سے کچھ زیادت کی تھی۔ لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس اصل خط کو چھاپ دیا جائے۔ مگر یاد رہے کہ چودھویں صدی کے خط میں جس قدر اختصار کیا گیا ہے یہ کسی کا قصور نہیں ہے اختصار کیلئے میں نے ہی اجازت دی تھی مگر اس اجازت کے استعمال میں کسی قدر غلطی ہوگئی ہے لہٰذا اب اس کی اصلاح ضروری ہے۔ اس تمام قصے کے لکھنے سے غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت اور تمام حق کے طالبوں کیلئے یہ بھی ایک خدا کا نشان ہے اور جناب سر سید ا حمد خاں صاحب بالقابہ کے غور کرنے کے لئے یہ تیسرا نمونہ ہے کہ کیونکر اللہ جلّ شانہٗ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرلیتا ہے۔ سید صاحب موصوف کا یہ قول تو نہایت صحیح ہے کہ ہر ایک دعا منظور نہیں ہو سکتی بعض دعائیں منظور ہو جاتی ہیں مگر کاش سید صاحب کی پہلی تحریریں اس آخری تحریر کے مطابق ہوتیں۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ بزرگ موصوف جن کا خط ذیل میں لکھا جاتا ہے کچھ عام لوگوں میں سے نہیں ہیں بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ ایک بڑے ذی علم اور علماء وقت میں سے ہیں اور کئی لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ انکو الہام بھی ہوتا ہے اور اس خط میں انہوں نے اپنے الہام کا ذکر بھی کیا ہے۔ علاوہ ان سب باتوں کے وہ بزرگ پنجاب کے معزز رئیسوں اور جاگیرداروں میں سے ہیں اور ایک مدت سے گورنمنٹ عالیہ انگریزی کی طرف سے ایک معزز عہدہ حکومت پر بھی ممتاز ہیں چونکہ پرچۂ چودھویں صدی میں بھی اس بزرگ کے منصب اور مرتبت کا اس قدر ذکر ہو چکا ہے لہٰذا اس قدر یہاں بھی لکھا گیا اور بزرگ موصوف نے جو میرے نام بغرض معذرت ۲۹؍ اکتوبر ۱۸۹۷ ؁ء کو خط لکھا تھا جس کا خلاصہ چودھویں صدی میں چھپا ہے اس خط کو بغرض مصلحت مذکورہ بالا بحذف بعض فقرات ذیل میں لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے:۔