روحانی نصرت کی افواج کی طرف اس الہام میں اشارہ کیا کہ اِنّی مَعَ الْاَفْوَاجِ آتِیْکَ بَغْتَۃً۔ اور پھر ہمارے محفوظ رہنے اور بَری ہونے کی بشارت دی۔ اور تم نے دیکھا کہ جیسا کہ جلسہ مہوتسو سے پہلے میں نے خدا سے الہام پاکر اشتہار شائع کیا تھا کہ میرا مضمون غالب رہے گا۔ خداتعالیٰ نے وہی کیا اور فوق العادت قبولیت اس میں ڈال دی۔ چنانچہ اب تک ہزاروں انسان گواہی دے رہے ہیں کہ تمام مضمونوں میں وہی ایک مضمون ہے۔
اب سوچو کہ یہ کام کس نے کیا؟ کیا خدا نے یا کسی اور نے؟ یہ تو خداتعالیٰ کا قولی معجزہ تھا اور پھر فعلی معجزہ اس نے یہ دکھلایا کہ میری پیشگوئی کے مطابق لیکھرام مارا گیا۔ دیکھو یہ کیسا نشان ہے کہ جو کروڑ ہا انسانوں میں شہرت پاکر آخر لاہور جیسے صدر مقام میں ہیبت ناک طور پر ظہور میں آیا۔ آتھم کا نشان بھی تمہاری آنکھ میں بہت صاف ہے کہ کیونکر اس نے اول شرط کے موافق ترساں و لرزاں ہوکر شرط سے فائدہ اٹھایا اور پھر کیونکر الہام کے مطابق اخفاء شہادت سے جلد تر پکڑا گیا اور فوت ہوگیا۔
اخبارؔ چودھویں صدی والے بزرگ کی توبہ
علاوہ اور نشانوں کے یہ بھی ایک عظیم الشان نشان ہے جو حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ ایک بزرگ نے جو ہر ایک طرح سے دنیا میں معزز اور رئیس اور اہل علم بھی ہیں اس عاجز کے حق میں ایک دلآزار کلمہ یعنی مثنوی رومی کا یہ شعر پڑھا تھا جو پرچہ چودھویں صدی ماہ جون ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے
چوں خدا خواہد کہ پردۂ کس درد
میلش اندر طعنہ پاکاں برد
سو اس رنج کی وجہ سے جو اس عاجز کے دل کو پہنچا اس بزرگ کے حق میں دعا کی گئی تھی کہ یا تو خداتعالیٰ اس کو توبہ اور پشیمانی بخشے اور یا کوئی تنبیہ نازل کرے۔ سو خدا نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو توفیق توبہ عنایت فرمائی اور اس بزرگ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ اس عاجز کی دعا اس کے بارے میں قبول کی گئی اور ایسا ہی معافی بھی ہوگی۔ سو اس نے