نقلؔ مطابق اصل
’’اخبار چودھویں صدی والا مجرم‘‘*
’’بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم‘‘
’’سیدی و مولائی السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘
’’ایک خطاکار اپنی غلط کاری سے اعتراف کرتا ہوا (اس نیازنامہ کے ذریعہ سے) قادیان کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہوکر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔
یکم جولائی ۹۷ سے یکم جولائی ۹۸ تک جو اس گنہگار کو مہلت دی گئی اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے۔ (اس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہوکر حضرت اقدس کے حضور سے معافی و رہائی دی گئی) مجھے اب زیادہ معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس قدر ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا سے آپ کی اس دعوت پر بہت غور سے جویائے حال رہتا رہا اور میری تحقیق ایمانداری و صاف دلی پر مبنی تھی۔ حتّی کہ (۹۰) فیصدی یقین کا مدارج پہنچ گیا۔
(۱) آپ کے شہر کے آریہ مخالفوں نے گواہی دی کہ آپ بچپن سے صادق و پاکباز تھے۔ (۲) آپ جوانی سے اپنی تمام اوقات خدائے واحد حَیّ وقیّوم کی عبادت میں لگاتار صرف فرماتے رہے 3۔۱ (۳) آپ کا حسن بیان تمام عالمان ربّانی سے صاف صاف علیحدہ نظر آتا ہے۔ آپ کی تمام تصنیفات میں ایک زندہ روح ہے (3)۲ (۴) آپ کا مشن کسی فساد اور گورنمنٹ موجودہ کی (جو تمام حالات سے اطاعت و شکرگذاری کے قابل ہے) بغاوت کی راہ نمائی نہیں کرتا اِنّ اللّٰہ لا یحبّ فی الارض الفساد۔
* یہ عنوان بزرگ موصوف نے اپنے خط کے سر پر لکھا تھا ۔ چونکہ اس عنوان میں نہایت انکسار ہے جو انسان کو بوجہ اس کے کمال تذلل کے مورد رحمت الٰہی بناتا ہے اس لئے ہم نے اس کو جیسا کہ اصل خط میں تھا لکھ دیا ہے۔ منہ