پردہ دری ہو جائے گی۔ مگر یہ تدبیر جو سوچی گئی یہ اور بھی ان کی پردہ دری کی موجب ہوئی اور ان کے چھپے ہوئے حالات کھل گئے اور ان کی اخلاقی حالت بھی لوگوں پر ظاہر ہوگئی۔ اسؔ جگہ زیادہ تر افسوس کا مقام یہ ہے کہ بے چارہ شیخ محمد حسین بٹالوی کہ ہمیشہ گھات میں لگا ہوا تھا اس نے بھی پادریوں کے بھروسے پر بہت سُبکی اٹھائی اور محمد حسین نے جو اس مقدمہ میں خواہ نخواہ اپنے تئیں دخیل کار بنایا تو اس کا بھی یہی سبب تھا کہ وہ بھی میرے مقابل پر سخت عاجز آگیا تھا جب ابتدا میں اس نے لدھیانہ میں میرے ساتھ بحث کی تو اس بحث میں وہ قرآن شریف یا حدیث سے یہ ثابت نہ کر سکا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے اور اب تک دوسرے آسمان پر ہیں بلکہ قرآن اور حدیث کے رو سے اس پر حُجّتپوری ہوگئی کہ وہ درحقیقت فوت ہوگئے ہیں۔ اس پر ایک اور شرمندگی کا باعث اس کو یہ پیش آیا کہ وہ مجھ کو جاہل قرار دے کر اور خود عالم فاضل ہونے کا مُدّعی ہو کر ان میری عربی کتابوں کا ایک سطر بنانے سے بھی مقابلہ نہ کر سکا جو اس کی علمیت کے آزمانے کے لئے میں نے تالیف کی تھیں۔ پھر خدا کے آسمانی نشانوں نے اس کو ایسا کوفتہ کیا کہ گویا ہلاک کر دیا۔ سب سے پہلے لودھیانہ میں ایک پیر مرد کریم بخش نام نے جو موحد تھا اپنے مرشد کی ایک پیشگوئی میرے بارے میں شائع کی جو میرے دعوے سے تیس برس پہلے سن چکا تھا اور حلفاًبیان کیا کہ اس کا مرشد بڑے زور سے مجھے کہا کرتا تھا۔ کہ ’’مسیح موعود اسی امت میں سے پیدا ہوگا اور اس کا نام غلام احمد ہوگا اور اس کے گاؤں کا نام قادیاں ہوگا۔ اور وہ لدھیانہ میں آئے گا۔ اور مولوی لوگ اس کی سخت مخالفت کریں گے اور اس کو کافر ٹھہرائیں گے اور تُو دیکھے گا کہ کیسی مخالفت کریں گے۔ اور وہ سچ پر ہوگا‘‘۔ اور اس پیر مرد کی برادری کے لوگوں نے مولویوں کے بہکانے سے بہت زور دیا تا وہ اس گواہی کو چھپا وے مگر وہ ہمیشہ رو رو کر اس گواہی کو ظاہر کرتا رہا یہاں تک کہ اس جہان سے گذر گیا۔ مگر بذریعہ اپنی