غرضؔ میں بھی پیشگوئیوں کے مطابق آیا ہوں۔ مسیح کے وقت بھی یہ حجتیں پیش کی گئی تھیں کہ جب تک ایلیا آسمان سے نازل نہ ہو سچا مسیح نہیں آ سکتا اور میرے مقابل پر بھی باتیں پیش کی گئیں کہ آنے والا مسیح آسمان سے اترے گا۔
اور یسوع کے نشانوں کی نسبت میں لکھ چکا ہوں کہ وہ اس زمانہ کے لئے نشان نہیں ہیں بلکہ ان کو کتھا یا کہانی کہنا چاہیے۔ آپ لوگوں کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ آپ صاحبوں نے میری زبردست پیشگوئیاں اور نشان دیکھے۔ اور میں اسی پر بس بھی نہیں کرتا بلکہ میں زور سے کہتاہوں کہ اگر کوئی عیسائی میری صحبت میں رہے تو ابھی برس نہیں گذرے گا کہ وہ کئی نشان دیکھے گا۔ خدا کے نشانوں کی اس جگہ بارش ہو رہی ہے۔ اور وہ خدا جس کو لوگوں نے بھلا دیا اور اس کی جگہ مخلوق کو دی وہ اس وقت اس عاجز کے دل پر تجلّیکر رہا ہے۔ وہ دکھانا چاہتا ہے کیا کوئی دیکھنے کے لئے راغب ہے؟ اے عزیزو! غلطیوں میں مت پھنسے رہو یسوع ابن مریم خدا نہیں ہے یہ کلمات جو اس کے منہ سے نکلے اہل اللہ کے منہ سے نکلا کرتے ہیں۔ مگر ان سے کوئی خدا نہیں بن سکتا۔ اٹھو! اور توبہ کرو کہ وقت آگیا ہے!! اس خدا کو پوجو جس پر توریت اور قرآن کا اتفاق ہے۔ یسوع ابن مریم ایک عاجز بندہ تھا اس کو نبی سمجھو جس کو خدا نے بھیجا تھا۔ اگر اب بھی کوئی عیسائی نہ مانے تو یاد رکھے کہ خداتعالیٰ کی حُجّت اس پر پوری ہو چکی ہے۔
اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ پادری صاحبان کی ناراضگی کا اصل موجب یہی ہے کہ میرے ہاتھ سے خداتعالیٰ نے ہر ایک طور سے ان کو شرمندہ کیا۔ ان کا تمام ساختہ پرداختہ میری تحریروں سے ردّ ہوگیا۔ میرے لئے جو میرے خدا نے آسمانی نشان دکھلائے اور دکھلا رہا ہے اس کے مقابل پادری صاحبوں کے ہاتھ میں بجز پرانے قصوں کے اور کچھ نہیں اور بار بار ان کو آسمانی نشانوں میں مقابلہ کے لئے بلایا گیا۔ مگر ان کے ہاتھ میں کیا تھا تا وہ مقابلہ کرتے آخر ہر ایک طور سے ناچار ہوکر یہی تجویز سوچی گئی کہ میرے پر خون کا مقدمہ بنایا جائے۔ سو اس مقدمہ کے بنانے کی اصل وجہ یہی تھی کہ وہ میری محققانہ تحریروں اور آسمانی نشانوں سے تنگ آکر اس خوف میں پڑ گئے تھے کہ اب جلد تر ان کی