یا اس شَے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کرلیا ہو یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اِس اثناء میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہوکر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کرلیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضا اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان ا ور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے ربّ نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہوگیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو مَیں مَیں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گِر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور میں سر کے بالوں سے ناخن پَا تک اس کی طرف کھینچا گیا۔ پھر میں ہمہ مغز ہوگیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا کہ جس میں کوئی مَیل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔ پس میں اس شے کی طرح ہوگیا جو نظر نہیں آتی یا اس قطرہ کی طرح جو دریا میں جاملے اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔ اس حالت میں مَیں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے مَیں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی۔ اور مَیں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضا اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کرلیا کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے میں بالکل معدوم ہوگیا۔ اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضا میرے نہیں بلکہ اللہ ؔ تعالیٰ کے اعضا ہیں۔ اور میں خیال کرتا تھا کہ میں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویت سے قطعاً نکل چکا ہوں اب کوئی شریک اور مناع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خداتعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہوگیا۔ اور اس حالت میں مَیں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام