خدا کا سایہ تیرے پر ہوگا اور وہ تیری پناہ رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین بھی ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے اور یہ امر ابتدا سے مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے تو دنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہے اور تمام دنیا پر تجھے بزرگی ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس کے لئے وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے پہنچ نہیں سکتا تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو تمہارے پاس خدا کا نور آیا پس تم منکر مت ہو‘‘۔ وغیرہ الخ۔اور ان کے ساتھ اور مکاشفات ہیں جو ان کی تائید کرتے ہیں چنانچہ ایک کشف میں مَیں نے دیکھا کہ میں اور حضرت عیسیٰ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اس کشفؔ کو بھی میں براہین میں چھاپ چکا ہوں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تمام صفات روحانی میرے اندر ہیں اور جن کمالات سے وہ موصوف ہو سکتے ہیں وہ مجھ میں بھی ہیں۔ اور پھر ایک اور کشف ہے جو آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۶۴و۵۶۵ میں مدّت سے چھپ چکا ہے اس کو بعینہٖ ذیل میں درج کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے ترجمہ:۔میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں