اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انّا زیّنا السّمَاء الدّنیا بِمَصَابیح۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر جاری ہوا أَردتُ ان استخلف فخلقت آدم ۔ انّا خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت میرے پر ظاہر ہوئے اور اس قسم کے اور بھی بہت سے الہامات ہیں جن کو میں قریباً پچیس برس سے شائع کر رہا ہوں اور بہت سے ان میں سے میری کتاب براہین احمدیہ اور دوسری کتابوں میں چھپ کر شائع ہو چکے ہیں۔ اب حضرات پادری صاحبان سوچیں اور غور کریں اور ان الہامات کو یسوع مسیح کے الہامات سے مقابلہ کریں اور پھر انصافاًگواہی دیں کہ کیا یسوع کے وہ الہامات جن سے وہ اس کی خدائی نکالتے ہیں ان الہامات سے بڑھ کر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر کسی کی خدائی ایسے الہامات اور کلمات سے نکل سکتی ہے تو ان میرے الہامات سے نعوذ باللہ میری خدائی یسوع کی نسبت بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگی اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آپ کی وحی میں صرف یہی نہیں کہ جس نے تجھ سے بیعت کی اس نے خدا سے بیعت کی اور نہ صرف یہ کہ خداتعالیٰ نے آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا ہے اور آپ کے ہر ایک فعل کو اپنا فعل ٹھہرایا ہے۔ اور یہ کہہ کر کہ 33۔۱؂ آپ کی تمام کلام کو اپنی کلام ٹھہرایا ہے بلکہ ایک جگہ اور تمامؔ لوگوں کو آپ کے بندے قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا3۲؂ ۔ یعنی کہہ کہ اے میرے بندو۔ پس ظاہر ہے کہ جس قدر صراحت اور وضاحت سے ان پاک کلمات سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی