ھُمْ مُّحْسِنُوْن۔ یَاْتِی نَصْرُاللّٰہ۔ اِنّا سَنُنْذِرُ العَالم کُلّہٗ۔ انا سَنَنْزِلُ۔ اَنَا اللّٰہُ لا اِلٰہ اِلَّا اَنَا۔ یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے کہ آسمان اور زمین میرے لئے ہے۔ کہ میرے لئے سلامتی ہے۔ وہ سلامتی جو خدا قادر کی حضور میں سچائی کی نشست گاہ میں ہے۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور جن کا اصول یہ ہے کہ خلق اللہ سے نیکی کرتے رہیں- خدا کی مدد آتی ہے۔ ہم تمام دنیا کو متنبہ کریں گے۔ ہم زمین پر اتریں گے۔ میں ہی کامل اور سچا خداہوں میرے سوا اور کوئی نہیں۔
ان الہامات میں نصرت الٰہی کے پُرزور وعدے ہیں مگر یہ تمام مدد آسمانی نشانوں کے ساتھ ہوگی وہ لوگ ظالم اور ناسمجھ اور بیوقوف ہیں جو ایسا خیال کرے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی موعود تلوار لیکر آئے گا۔ نبوت کے نوشتے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں تلواروں سے نہیں بلکہ آسمانی نشانوں سے دلوں کو فتح کیا جائے گا اور پہلے بھی تلوار اٹھانا خدا کا مقصد نہ تھا۔ بلکہ جنہوں نے تلواریں اٹھائیں وہ تلواروں سے ہی مارے گئے۔ غرض یہ آسمانی نشانوں کا زمانہ ہے خونریزیوں کا زمانہ نہیں۔ احمقوں نے بُری تاویلیں کر کے خدا کی پاک شریعت کو بُری شکلوں میں دکھایا ہے۔ آسمانی قوتیں جس قدر اسلام میں ہیں کسی دین میں نہیں ہوئیں اسلام تلوار کا محتاج ہرگز نہیں۔
الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۲۳ ذی القعدہ سنۃ ۱۳۱۴ھ
نظم منشی گلاب الدین صاحب رہتاسی
اللہ اللہ صدی چودھویں کا جاہ و جلال
رحمت حق سے ملا ہے اسے کیا فضل و کمال
جس میں مامور من اللہ ہوا ایک بندہ حق
تاکہ اسلام کی رونق کو کرے پھر وہ بحال
جس کے آنے کی خبر مخبر صادق نے تھی دی
آسماں پر سے اتر آیا وہ صاحب اقبال
قادؔ یان جائے قیام اس کا غلام احمد نام
جھاڑے اسلام نے پھر جس کے سبب سے پروبال
دین کی تجدید لگی ہونے بصد شدومد
دیکھو جس شخص کو کرتا ہے یہی قیل و قال
بھوکے نورانی غذاؤں سے لگے ہونے سیر
پیاسے برکات کی بارش سے ہوئے مالامال