اس کا خدا ہوگا اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے وہ ہر ایک جگہ مبارک ہوگا اور الٰہی قوتیں اس کے ساتھ ہوں گی۔ وَالسّلام عَلٰی مَنِ اتَّبَع الْھُدٰی
اب ہم اس رسالہ کو اس وصیت پر ختم کرتے ہیں کہ اے سچائی کے طالبو سچائی کو ڈھونڈو کب اب آسمان کے دروازے کھلے ہیں۔ اور اے ہماری قوم کے نادان*مولویو یہ وہی خدا کے دن ہیں جن کا وعدہ تھا سو آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ زمین پر کیا ہو رہا ہے اور کیسے سچائی کے بادشاہ مقدس رسول کو پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے کیا اس پاک نبی کی توہین میں کچھ کسر رہ گئی کیا ضرور نہ تھا کہ زمین کے اس طوفان کے وقت آسمان پر کچھ ظاہر ہوتا۔ سو اس لئے خدانے ایک بندہ کو اپنے بندوں میں سے چن لیا تا اپنی قدرتیں دکھلاوے اور اپنی ہستی کا ثبوت دے اور وہ جو سچائی سے ٹھٹھے کرتے اور جھوٹ سے محبت رکھتے ہیں ان کو جتلاوے کہ میں ہوں اور سچائی کا حامی ہوں- اگر وہ ایسے فتنہ کے وقت میں اپنا چہرہ نہ دکھلاتا تو دنیا گمراہی میں ڈوب جاتی اور ہر ایک نفس دہریہ اور ملحد ہو کر مرتا۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ انسانی کشتی کو عین وقت میں اس نے تھام لیا یہ چودھویں صدی کیا تھی چودھویں رات کا چاند تھا جس میں خدا نے اپنے نور کو چادر کی طرح زمین پر پھیلا دیا۔ اب کیا تم خدا سے لڑو گے کیا فولادی قلعہ سے اپنا سر ٹکراؤ گے کچھ شرم کرو اور سچائی کے آگے مت کھڑے ہو۔ خدا نے دیکھا ہے کہ زمین بدعت اور شرک اور بدکاریوں سے جل گئی ہے اور نجاست کو پسند کیا جاتا ہے اور سچائی کو رد کیا جاتا ہے سو اس نے جیسا کہ اس کی قدیم سے عادت ہے دنیا کی اصلاح کیلئے توجہ کی۔ کیونکہ سچی تبدیلی آسمان سے ہوتی ہے نہ زمین سے اور سچا ایمان اوپر سے ملتا ہے نہ نیچے سے۔ اس لئے اس رحیم خدا نے چاہا کہ ایمان کو تاؔ زہ کرے اور ان لوگوں کے لئے جن کو اشتہاروں کے ذریعہ سے بلایا گیا ہے یا آئندہ بلایا جائے ایسا نشان دکھلائے۔ اور مجھے میرے خدا نے مخاطب کر کے فرمایا ہے۔ اَلاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَکَ کَمَا ھُوَمَعِی۱۔قُلْ لِّی الاَرْضُ وَالسَّمَآء۔ قُلْ لِّی سلامٌ فی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرْ۔ اِنّ اللّٰہ مَعَ الّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالّذِیْنَ
اس زمانہ کے مولویوں کی نسبت میں وہی کہتا ہوں جو آثار میں پہلے سے کہا گیا ہے۔ منہ
۱ نوٹ:۔ ضمیرھو اس تاویل سے ہے کہ اس کا مرجع مخلوق ہے۔ منہ