آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی معجزہ اور پیشگوئی نہیں ہوئی یہ نادان نہیں سمجھتے کہ جس حالت میں ان کی امت سے یہ انوار اور برکات ظاہر ہو رہے ہیں اور دوسرے کسی نبی کی امت سے یہ نشان ظاہر نہیں ہوتے تو کس قدر سچائی کا خون کرنا ہے کہ ایسے سرچشمہ برکات سے انکار کیا جائے بلکہ حق تو یہ ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا وجود مبارک نہ ہونا تو کسی نبی کی نبوت ثابت نہ ہو سکتی۔ ظاہر ہے کہ صرف قصوں اور کہانیوں کو پیش کرنا اس کا نام تو ثبوت نہیں ہے یہ قصے تو ہر ایک قوم میں بکثرت پائے جاتے ہیں *** ہے ایسے دل پر جو صرف قصوں پر اپنے ایمان کی بنیاد ٹھہرائے۔ خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے ایک انسان کے بچہ عاجز کو خدا بنا لیا۔ دیکھا نہ بھالا قربان گئی خالہ۔ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی ؐ اور زندہ نبی ؐ اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی ؐ صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و سلم ہے جس کے زیر سایہ دس۰۱ دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی وہ کیسی کتابیں ہیں جو ہمیں بھی اگر ہم ان کے تابع ہوں مردود اور مخذول اور سیاہ دل کرنا چاہتی ہیں کیا ان کو زندہ نبوت کہنا چاہئے جن کے سایہ سے ہم خود مردہ ہو جاتے ہیں یقیناً سمجھو کہ یہ سب مردے ہیں کیا مردہ کو مردہ روشنی بخش سکتا ہے یسوع کی پرستش کرنا صرف ایک بت کی پرستشؔ کرنا ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر وہ میرے زمانہ میں ہوتا تو اس کو انکسار کے ساتھ میری گواہی دینی پڑتی کوئی اس کو قبول کرے یا نہ کرے مگر یہی سچ ہے اور سچ میں برکت ہے کہ آخر اس کی روشنی دنیا پر پڑتی ہے۔ تب دنیا کی تمام دیواریں چمک اٹھتی ہیں مگر وہ جو تاریکی میں پڑے ہوں سو آخری وصیت یہی ہے کہ ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی امی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا اور ایسی قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں رہے گی۔ زندہ خدا جو لوگوں سے پوشیدہ ہے