وہ تمام باتیں تجھے بخش دیں جو تیری زبان پر جاری ہوئیں اور تیری تکفیر اور تکذیب کو میں نے معاف کیا اس کے بعد ہی وہ اپنے اصلی قد پر نظر آیا اور سفید کپڑے نظر آئے پھر میں نے کہا جیسا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا آج وہ پورا ہوگیا پھر ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ ایک شخص جس کا نام سلطان بیگ ہے جان کندن میں ہے میں نے کہا کہ اب عنقریب وہ مر جائے گا کیونکہ مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ اس کی موت کے دن صلح ہوگی پھر میں نے محمد حسین کو یہ کہا کہ میں نے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ صلح کے دن کی یہ نشانی ہے کہ اس دن بہاء الدین فوت ہو جائے گا۔ محمد حسین نے اس بات کو سن کر نہایت تعظیم کی نظر سے دیکھا اور ایسا تعجب کیا جیسا کہ ایک شخص ایک واقعہ صحیحہ کی عظمت سے تعجب کرتا ہے اور کہا یہ بالکل سچ ہے اور واقعی بہاء الدین فوت ہوگیا پھر میں نے اس کی دعوت کی اور اس نے ایک خفیف عذر کے بعد دعوت کو قبول کرلیا اور پھر میں نے اس کو کہا کہ میں نے خواب میں یہ بھی دیکھا تھا کہ صلح بلاواسطہ ہوگی سو جیسا کہ دیکھا تھا ویسا ہی ظہور میں آگیا اور یہ بدھ کا دن اور تاریخ ۱۲؍ دسمبر ۱۸۹۴ء تھی۔
چھتیسویں پیشگوئی۔ چھتیسویں پیشگوئی یہ ہے جیسا کہ میں ازالہ اوہام میں لکھ چکا ہوں خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیری عمر اسی ۰۸ برس یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ ہوگی اور یہ الہام قریبًا بیس ۰۲ یا بائیس برس کے عرصہ کا ہے جس سے بہت لوگوں کو اطلاع دی گئی اور ازالہ اوہام میں بھی درج ہو کر شائع ہوگیا۔
سینتیسویں۷۳ پیشگوئی۔ سینتیسویں پیشگوئی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ان اشتہارات کی تقریب پر جو آریہ قوم اور پادریوں اور سکھوں کے مقابل پر جاری ہوئے ہیں جو شخص مقابل پر آئے گا خدا اس میدان میں میری مدد کرے گا۔ اسی طرح اور بھی پیشگوئیاں ہیں جو متفرق کتابوں میں لکھی گئی ہیں۔ اور ایسے خوارق پانچ ہزار کے قریب پہنچ چکے ہیں جن کے دیکھنے والے اکثر گواہ اب تک زندہ موجود ہیں۔ اور ہر ایک شخص جو ایک مدت تک صحبت میں رہا ہے اس نے بچشم خود مشاہدہ کیا ہے اور کر رہے ہیں پس ان بدقسمت لوگوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جو کہتے ہیں کہ جو