وغیرہ بے دلیل عذروں کی طرف منسوب کیا جائے۔ حالانکہ اس ثبوت کو دلوں میں جمانے کے لئے قسم اور نالش دونوں راہیں اس کے لئے کھلی تھیں۔ اب بتلاؤ کیا اس نے قسم کھائی؟ کیا اس نے نالش کی؟ کیا اس نے اپنے بہتانوں کا کوئی اور ثبوت دیا؟ کچھ تو منہ سے کہو! کچھ تو پھوٹو! کہ اس نے خوفؔ کا اقرار کر کے اور محض بہتان اور افتراء سے سانپ وغیرہ کو اپنے خوف کی بناء قرار دیکر ان خود تراشیدہ عذرات کے ثابت کرنے کے لئے کیا کیا دلائل پیش کئے۔ اے کمبخت متعصبو! کیا تم کبھی نہیں مرو گے؟ کیا وہ دن نہیں آئے گا کہ جب تم رب العالمین کے حضور میں کھڑے کئے جاؤ گے۔ اگر اسی شکل کا کوئی دنیا کا مقدمہ ہوتا اور تم اس کے اسیسر یا منصف مقرر کئے جاتے تو بیشک تم ایسے شخص کو کہ آتھم کی طرح اپنے عذرات کا کچھ ثبوت نہ دے سکتا جھوٹا ٹھہراتے اور انسانی عدالت سے ڈر کر سچے اظہار لکھوا دیتے۔ مگر اب تم سمجھتے ہو کہ خدا تم سے دور ہے اور کچھ سنتا نہیں اور مواخذہ کا دن بہت فاصلہ پر ہے!!! سچ کہو کیا آتھم پاکدامن مرگیا؟ اور اپنے سر پر ہماری طرف سے کوئی الزام نہیں لے گیا؟ تمہیں قسم ہے ذرہ مجھے سناؤ کہ کیا تم نے میرے اشتہاروں میں نہیں پڑھا کہ آتھم اخفاء حق پر اصرار کرنے کے بعد جلد مرجائے گا۔ سو ایسا ہی ہوا اور وہ ہمارے آخری اشتہار سے جو اتمام حجت کی طرح تھا سات ماہ کے اندر فوت ہوگیا۔ پس یہ کیسی بے ایمانی ہے جو اس قوم کے خبیث طبع لوگوں نے عیسائیوں کے ساتھ ہاتھ جا ملائے اور آسمانی آواز کی مخالفت کی اور شیطانی آواز کے مصدق ہوگئے۔ پر یہ تو اچھا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث کو پورا کیا۔ کمبخت سعد اللہ نو مسلم اور محمد علی واعظ اب تک روئے جاتے ہیں جو پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اے شیاطین کے گروہ تم راستی کو کب تک چھپاؤ گے؟ کیا تمہاری کوششوں سے حق نابود ہو جائے گا۔ خدا سے لڑو جس قدر لڑ سکتے ہو۔ پھر دیکھو کہ فتح کس کی ہے کیونکہ حکم خواتیم پر ہے۔ اے بے حیا قوم! آتھم مقابل پر آنے سے ڈرا مگر تم نہ ڈرے۔ وہ لعنتوں کے ساتھ کچلا گیا مگر مقابل پر نہ آیا۔ اس کو چار ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا۔ اس کو جرأت نہ ہوئی کہ ایک قدم بھی ہماری طرف آوے۔ یہاں تک کہ