قبر میں پہنچ گیا۔ وہ نالش کرنے سے بھی ڈرا۔ اور جب عیسائیوں نے اس پر زور دیا تو اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا تو کیا ابھی تک ثابت نہ ہوا کہ وہ اپنے مقابلہ کو خلاف حق جانتا تھا۔ اور دل میں خوف بھرا ہوا تھا۔ مگر پھر بھی اخفائے حق کی وجہ سے خدا نے اسؔ کو نہ چھوڑا اور خدا کے وعدہ کے موافق اور ٹھیک ٹھیک اس کے الہام کے منشاء کے مطابق وہ مرگیا۔ اور مولویوں اور عیسائیوں کا منہ سیاہ کر گیا۔ وہ مجھ سے عمر میں بجز چند سال کچھ زیادہ نہ تھا۔ سعد اللہ نو مسلم کی بد ذاتی ہے کہ اس کو پیر فرتوت قرار دیتا ہے۔ یہ یہودی چاہتا ہے کہ کسی طرح پیشگوئی مخفی ہو جائے۔ سو اے مخالفو! بے حیائی سے جس قدر چاہو انکار کرو۔ مگر حقیقت کھل گئی اور عقلمندوں نے سمجھ لیا ہے کہ پیشگوئی نہ ایک پہلو سے بلکہ چار پہلو سے پوری ہوگئی۔*
آتھم کو اس رجوع اور خوف کا فائدہ دیا گیا جو اس سے ظہور میں آیا جیسا کہ الہامی شرط تھی اور پیشگوئی کا ایک جزو تھا۔ اور یہ رجوع پیشگوئی کو سنتے ہی اس میں پیدا ہوگیا تھا کیونکہ وہ اسلامی مرتد تھا اور یسوع کی خدائی کے بارے میں خود ہمیشہ کھٹکے میں رہتا تھا اور تاویلیں کیا کرتا تھا اور مجھ پر ابتداء سے اس کو نیک ظن تھا کیونکہ وہ اس ضلع میں رہ کر میرے ابتدائی حالات سے خوب واقف تھا۔ یہ ممکن نہ تھا کہ وہ مجھے جھوٹا سمجھتا اسی وجہ سے پیشگوئی کے سنانے کے وقت اس کا رنگ زرد ہوگیا تھا اور اس کی حالت متغیر ہو گئی تھی۔ اور جب میں نے کہا کہ تم نے اپنی کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو دجال کہا ہے یہ اس کی سزا ہے جو تم کو ملے گی۔ تو اس کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور دونوں ہاتھ اس نے اپنے کانوں پر رکھے گویا وہ اس وقت توبہ کر رہا تھا۔ میرے خیال میں ہے کہ اس وقت ستر آدمی کے قریب اس جلسہ نصاریٰ میں ہوں گے۔ غرض اس کا رجوع نہ دیر کے بعد بلکہ اسی دم سے شروع ہوگیا تھا۔ اور اخیر میعاد تک اس نے دیوانوں کی طرح دنوں کو بسر کیا۔
(۱)ایک پہلو یہ کہ جو الہام میں شرط تھی اس شرط کی پابندی سے آتھم کی موت میں تاخیر ہوئی۔(۲) دوم یہ کہ آتھم اخفاء شہادت سے موافق الہام جلد فوت ہو گیا۔ (۳) سوم یہ کہ عیسائیوں کے مکر اور مولویوں کی باہمی سازش سے براہین احمدیہ کی پیشگوئی صفحہ ۲۴۱ پوری ہو گئی۔ (۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشگوئی جو عیسائیوں اور مسلمانوں کے جھگڑے کے بارے میں تھی وہ بھی اس سے پوری ہو گئی۔ منہ