اٹھائیسویں پیشگوئی۔ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص۴۹۶ میں ہے اور وہ یہ ہے یُحیِی الدّین و یقیم الشریعۃ یاآدم اسکن انت و زوجک الجنۃ۔ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت و زوجک الجنۃ۔ نفخت فیک من لدنی روح الصدق (ترجمہ) دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔ اے آدم تو اور تیرا زوج بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اے مریم تو اور تیرا زوج بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اے احمد تو اور تیرا زوج بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ میں نے اپنے پاس سے صدق کی روح تجھ میں پھونکی۔ یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ اور تین ناموں سے تین واقعات آئندہ کی طرف اشارہ ہے جن کو عنقریب لوگ معلوم کریں گے اور اس الہام میں جو لفظ لَدُنْ کا ذکر ہے اس کی شرح کشفی طور پر یوں معلوم ہوئی کہ ایک فرشتہ خواب میں کہتا ہے کہ یہ مقام لدن جہاں تجھے پہنچایا گیا یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیشہ بارشیں ہوتی رہتی ہیں اور ایک دم بھی بارش نہیں تھمتی۔ انتیسویں۹۲ پیشگوئی۔ یہ وہ پیشگوئی ہے جو براہین احمدیہ کے ص۵۰۶ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِن اَھلِ الکِتٰب وَالمُشْرکِینَ مُنْفَکِّیْنَ حتّٰی تَاْ تِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ اور پھر فرمایا کہ اگر ؔ خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ یہ خدا کے ایک ایسے نشان کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کو ہلاک ہونے سے بچا لے گا۔ اور الہام کے یہ معنی ہیں کہ ممکن نہ تھا کہ اہل کتاب اور ہندو اپنے تعصب اور عداوت سے باز آجاتے جب تک میں ایک کھلا کھلا نشان ان کو نہ دیتا اور اگر میں ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا اور حق مشتبہ ہو جاتا۔ تیسویں پیشگوئی۔ یہ وہ پیشگوئی ہے جو براہین احمدیہ کے ص۵۱۵ میں درج ہے اور وہ یہ ہے اِنّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لیغفر لک اللّٰہ ما تقدّم من ذنبک وما تأخّر یعنی ایک کھلی کھلی فتح ہم تجھ کو دیں گے تاہم تیرے اگلے پچھلے گناہ بخش دیں۔ یہ استعارہ اپنی رضامندی ظاہر کرنے کے لئے بیان فرمایا ہے۔ مثلاً ایک آقا اپنے کسی غلام سے ایسے حکیمانہ طور سے وقت بسر کرتا ہے جو نادان خیال کرتے ہیں کہ وہ اس پر ناراض ہے تب اس