آقا کی غیرت جوش مارتی ہے اور اس غلام کی سرافرازی کے لئے کوئی ایسا کام کرتا ہے کہ گویا اس نے اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں یعنی ایسی رضامندی ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ ایسا مہربان اس پر کبھی ناراض نہیں ہوگا یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ پھر اس کے بعد اسی صفحہ میں ایک تصویر دکھلائی گئی ہے اور وہ تصویر اس عاجز کی ہے سبزپوشاک ہے اور تصویر نہایت رعبناک ہے جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب اور دائیں بائیں تصویر کے یہ لکھا ہے حجّۃ اللّٰہ القادر۔ سلطان احمد مختار۔ اور تاریخ یہ لکھی ہے سوموار کا روز انیسویں ذی الحجہ ۱۳۰۰ مطابق۲۳؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء اور ششم کاتک سمت۱۹۴۰ بکرم۔ یہ تمام عبارت براہین کے ص۵۱۵ اور ص۵۱۶ میں موجود ہے۔ یہ کشف بتلا رہا ہے کہ ہتھیار کے ذریعہ سے ایک نشان ظاہر ہوگا۔ سو لیکھرام کا نشان اسی طرح وقوع میں آیا پھر اس کے بعد ص۵۱۶ میں یہ الہامی عبارت ہے الیس اللّٰہ بکاف عبدہ۔ فَبَرَّأہُ اللّٰہ مِمّا قالوا وکَانَ عندَاللّٰہ وجیھا۔ فلما تجلّٰی ربّہ للجَبَل جَعَلہ دکّا و اللّٰہ موھن کیدالکافرین۔ ولنجعلہ ٰایۃ للناس ورحمۃ منّا و کان امرًا مقضیًّا۔ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے پس خدا نے اس کو اس الزام سے بری کیا جو کافروں نے اس پر لگایا۔ اور وہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے اور خدا نے مشکلات کے پہاڑ کو پاش پاش کیا اور کافروں کے مکر کو سست کیا اور ہم اس کو اپنی رحمت سے ایک نشان ٹھہرائیں گے اورؔ ابتدا سے ایسا ہی مقدر تھا۔ اس الہام میں خدا تعالیٰ ظاہر فرماتا ہے کہ ہندو لیکھرام کے قتل کے بعد سازش قتل کا ایک الزام لگائیں گے اور ایک مکر کریں گے تا وہ الزام پختہ ہو جائے۔ ہم اس ملہم کی بریّت ظاہر کر دیں گے اور ان کے مکر کو سست کر دیں گے اور مشکلات کے پہاڑ آسان ہو جائیں گے۔ اب کچھ ضرور نہیں کہ ہم کسی کو اس پیشگوئی کی طرف توجہ دلاویں خود اہل انصاف سوچیں اور اس قدر کھلے کھلے غیبی امور سے انکار کر کے اپنی عاقبت کو خراب نہ کریں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس پیشگوئی میں جو لیکھرام کو جو عجل سے نسبت دی گئی اس میں کئی مناسبتوں کا لحاظ ہے (۱) اول یہ کہ جیسا کہ گوسالہ سامری بے جان تھا ایسا ہی یہ بھی