کا بلا فاصلہ پوری ہونا ضروری ہے اور الہامات میں خدا تعالیٰ کی یہ غرض نہیں ہوتی بلکہ اگر ہزار لڑکی پیدا ہو کر بھی پھر ان صفات کا لڑکا پیدا ہوا تو بھی کہا جائے گا کہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ ہاں اگر الہام الٰہی میں بلافاصلہ کا لفظ موجود ہوتا تو تب اس لفظ کی رعایت سے پیشگوئی کا ظہور میں آنا ضروری ہوتا۔ چھبیسویں پیشگوئی۔ چھبیسویں پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص۴۹۱ میں یہ ہے۔ وما کان اللہ لیترکک حتی یمیز الخبیث من الطیب واللّٰہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ ترجمہ۔ خدا تجھے نہیں چھوڑے گا جب تک پاک اور پلید میں فرق نہ کرلے۔ اور خدا اپنے امر پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ستائیسویں پیشگوئی ۔یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص۴۹۲ میں ہے اور وہ یہ ہے اردت ان استخلف فخلقت اٰدم یعنی میں نے خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ اور دوسرے مقام میں اسی کی تشریح میں یہ الہام ہے وقالوا أتجعل فیھا من یفسد فیھا قال انی اعلم ما لا تعلمون۔ یعنی لوگوں نے کہا کہ کیا تو ایسے آدمی کو خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد برپا کرے گا۔ خداؔ نے کہا کہ میں اس میں وہ چیز جانتا ہوں جس کی تمہیں خبر نہیں۔ جیسا کہ دوسرے الہام میں اسی براہین میں فرمایا ہے۔ انت منی بمنزلۃ لایعلمھا الخلق یعنی تو مجھ سے اس مقام پر ہے جس سے دنیا کو خبر نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی تو سترہ سال سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی اور جس فتنہ کی طرف یہ پیشگوئی اشارہ کرتی ہے وہ سالہا سال بعد میں ظہور میں آیا۔ چنانچہ مولویوں نے اس عاجز کو مفسد ٹھہرایا کفر کے فتوے لکھے گئے نذیر حسین دہلوی نے (علیہ مایستحقّہ) تکفیر کی بنیاد ڈالی اور محمد حسین بٹالوی نے کفار مکہ کی طرح یہ خدمت اپنے ذمّہ لے کر تمام مشاہیر اور غیر مشاہیر سے کفر کے فتوے اس پر لکھوائے اور جیسا کہ الہام الٰہی سے ظاہر ہوتا ہے براہین احمدیہ میں پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ ایسے فتوے لکھے جائیں گے۔ اور آثار نبویہ میں بھی ایسا ہی آیا تھا کہ اس مہدی موعود پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا سو وہ سب لکھا ہوا پورا ہوا۔