چوبیسویں۴۲ پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص ۴۸۹ میں ہے اور وہ یہ ہے انت وجیہ فی حضرتی اخترتک لنفسی۔ انت منی بمنزلۃ توحیدی و تفریدی فحان ان تعان و تعرف بین الناس۔ یعنی تو میری جناب میں وجیہ ہے میں نے تجھے چن لیا۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور تفرید۔ پس وہ وقت آگیا جو تیری مدد کی جائے گی اور تو لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔ یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں بھی بہتیرے ایسے تھے جو مجھ سے ناواقف تھے۔ اور اب جو اس پیشگوئی پر ۱۷ برس گذر گئے تو پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق اس عاجز کی شہرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اس ملک کے غیر قوموں کے بچے اور عورتیں بھی اس عاجز سے بے خبر نہیں ہوں گی جس شخص کو ان دونوں زمانوں کی خبر *ہوگی کہ وہ وقت کیا تھا اور اب کیا ہے تو بلا اختیار اس کی روح بول اٹھے گی کہ یہ عظیم الشان علم غیب انسانی طاقتوں سے ایسا بعید ہے کہ جیسا کہ ایک مکھی کی طاقت سے ایک قوی ہیکل ہاتھی کا کام۔
پچیسوؔ یں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے صفحہ۴۹۰ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ سبحان اللہ تبارک و تعالٰی زاد مجدک ینقطع اباء ک و یبدء منک۔ ترجمہ۔ پاک ہے وہ خدا جو مبارک اور بلند ہے۔ تیری بزرگی کو اس نے زیادہ کیا۔ اب یوں ہوگا کہ تیرے باپ دادا کا نام منقطع ہو جائے گا اور ان کا ذکر مستقل طور پر کوئی نہیں کرے گا اور خدا تیرے وجود کو تیرے خاندان کی بنیاد ٹھہرائے گا۔
اس پیشگوئی میں دو وعدے ہیں (۱) اول یہ کہ خدا لائق اور اچھی اولاد اس خاندان میں پیدا کرے گا۔ اور دوسرے یہ کہ تمام شرف اور مجد کا ابتدا اس عاجز کو ٹھہرادیا جائے گا اور وہ پیشگوئی جو ایک مبارک لڑکے کے لئے کی گئی تھی وہ الہام بھی درحقیقت اسی الہام کا ایک شعبہ ہے۔ اس وقت نادانوں نے شور مچایا تھا کہ پیشگوئی کے قریب زمانہ میں لڑکا پیدا نہیں ہوا بلکہ لڑکی پیدا ہوئی۔ یہ تمام شور اس لئے تھا کہ یہ نادان خیال کرتے تھے کہ پیشگوئی
نوٹ: اس خاکسار سراج الحق جمالی نے خدا کے فضل سے دونوں زمانے دیکھے اور ایمان میں ترقی ہوئی اور خدا سے دعا ہے کہ آگے کو پورا کمال اور ترقی اس امام برحق اور معصوم کی دکھلائے اور اس صادق کی معیت میں رکھ کر ایمان کو بڑھائے۔ (جمالی)