بائیسویں۲۲ پیشگوئی یہ پیشگوئی بھی براہین احمدیہ ص۲۴۱ میں ہے اور وہ یہ ہے کہ انک باعیننا یرفع اللّٰہ ذکرک و یتم نعمتہ علیک فی الدنیا والاٰخرۃ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے خدا تیرا ذکر اونچاکردے گا اور خدا اپنی نعمتیں دنیا اور آخرت میں تیرے پر پوری کر دے گا۔ اور یہ جو فرمایا کہ تیرا ذکر اونچا کر دے گا اس کے یہ معنی ہیں کہ دنیا اور دین کے خاص لوگ تعریف کے ساتھ تیرا ذکر کریں گے۔ اور اونچے مرتبوں والے تیری ثناء میں مشغول ہوں گے۔ اب کیا یہ تعجب نہیں کہ جو شخص کافر اور حقیر شمار کیا جاتا ہے اور دجّال اور شیطان کہا جاتا ہے اس کا انجام یہ ہو۔ کہ دین اور دنیا کے بلند مراتب والے سچے دل سے اس کی تعریفیں کریں گے۔
تئیسویں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین کے ص۲۴۲ میں مرقوم ہے۔ اِنّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔ واَلقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِنِّی و ؔ بشّر الذین اٰمنوا ان لھم قدم صدق عند ربھم۔ واتل علیھم ما اوحی الیک من ربّک ولا تصعّر لخلق اللّٰہ ولا تسئم من الناس۔ ترجمہ۔ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور میں اپنی طرف سے محبت تیرے پر ڈالوں گا یعنی بعد اس کے کہ لوگ دشمنی اور بغض کریں گے یک دفعہ محبت کی طرف لوٹائے جائیں گے جیسا کہ یہی مہدی موعود کے نشانوں میں سے ہے اور پھر فرمایا کہ جو لوگ تیرے پر ایمان لائیں گے ان کو خوشخبری دے کہ وہ اپنے رب کے نزدیک قدم صدق رکھتے ہیں۔ اور جو میں تیرے پر وحی نازل کرتا ہوں تو ان کو سنا خلق اللہ سے منہ مت پھیر اور ان کی ملاقات سے مت تھک اور اس کے بعد الہام ہوا۔ ووسّع مکانک یعنی اپنے مکان کو وسیع کرلے۔ اس پیشگوئی میں صاف فرما دیا کہ وہ دن آتا ہے کہ ملاقات کرنیوالوں کا بہت ہجوم ہو جائے گا یہاں تک کہ ہر ایک کا تجھ سے ملنا مشکل ہو جائے گا پس تونے اس وقت ملال ظاہر نہ کرنا اور لوگوں کی ملاقات سے تھک نہ جانا۔ سبحان اللہ یہ کس شان کی پیشگوئی ہے اور آج سے ۱۷ برس پہلے اس وقت بتلائی گئی ہے کہ جب میری مجلس میں شاید دو تین آدمی آتے ہوں گے اور وہ بھی کبھی کبھی اس سے کیسا علم غیب خدا کا ثابت ہوتا ہے۔