میں ہے اور ہم اس کو مفصل لکھ چکے ہیں اور مدت ہوئی کہ آتھم صاحب اس دنیا سے کوچ کر کے اپنے ٹھکانہ پر پہنچ گئے ہیں۔ ہمارے مخالفوں کو اب اس میں تو شک نہیں کہ آتھم مرگیا ہے جیسا کہ لیکھرام مرگیا ہے اور جیسا کہ احمد بیگ مرگیا ہے لیکن اپنی نابینائی سے کہتے ہیں کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ اے نالائق قوم جو شخص خدا کے وعید کے موافق مر چکا اب اس کی میعاد غیر میعاد کی بحث کرنا کیا حاجت ہے بھلا دکھلاؤ کہ اب وہ کہاں اور کس شہر میں بیٹھا ہے تم سن چکے ہو کہ اس پر تو میعاد کے اندر ہی ھاویہ کی آنچ شروع ہوگئی تھی شرط پر اس نے عمل کیا اس لئے کوئی چند روز نیم جان کی طرح بسر کئے اس آگ نے اس کو نہ چھوڑا اور بھسم کر دیا۔
یہ خدا تعالیٰ کی غیبی قدرتوں کا ایک بھاری نمونہ ہے کہ آتھم کے قصہ کی سترہ برس پہلے براہینؔ احمدیہ میں خبر درج کر دی گئی پہلے اس بحث کی طرف اشارہ کر دیا جو توحید اور تثلیث کے بارہ میں بمقام امرتسر ہوئی تھی اور اس کے بارہ میں فرمایا گیا کہ قل ھو اللّٰہ احد اللّٰہ الصمد لم یلد و لم یولد و لم یکن لہ کفوا احد پھر عیسائیوں کے اس مکر کی خبر دی گئی جو حق پوشی کیلئے میعاد کے گذرنے کے بعد انہوں نے کیا پھر اس مکّارانہ فتنہ پر اطلاع دی گئی جو عیسائیوں کی طرف سے نہایت متعصبانہ جوش کے ساتھ ظہور میں آیا اور پھر آخر صدق کے ظاہر ہونے کی بشارت دی گئی اور پھر اس الہام کے ساتھ جو ص۲۴۱ میں ہے یعنی انّا فتحنا لک فتحا مبینا فتح عظیم کی خوشخبری سنائی گئی۔ اب بتلاؤ کیا یہ انسان کا کام ہے آنکھ کھولو اور دیکھو کہ آتھم کی پیشگوئی کیسی عظیم الشان غیب کی خبریں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔
اکیسو ۱۲ یں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص۲۴۱ میں درج ہے۔ فتح الولی فتح و قرّبناہ نجیّا اشجع الناس۔ ولو کان الایمان معلقا بالثریا لنالہ۔ انار اللّٰہ برھانہ ترجمہ فتح وہی ہے جو اس ولی کی فتح ہے اور ہم نے ہمرازی کے مقام پر اس کو قرب بخشا ہے۔ تمام لوگوں سے زیادہ بہادر ہے اگر ایمان ثریا پر چلا گیا ہوتا تو یہ اس کو وہاں سے لے آتا خدا اس کے برہان کو روشن کر ے گا۔