دوسرا وہ وقت آتا ہے جو دعا سے زندہ ہوں گے۔ انیسویں پیشگوئی یہ پیشگوئی جو براہین کے ص ۲۴۰ میں ہے یہ ہے ربّ ارنی کیف تحی الموتٰی ربّ اغفر و ارحم من السّمآء۔ ربّ لا تذرنی فردا و انت خیر الوارثین۔ ربّ اصلح امّۃ محمّد۔ ربّنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفاتحین۔ یریدون ان یطفؤا نور اللہ بافواھہم واللہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون۔ اذا جاء نصراللّٰہ والفتح وانتہٰی امر الزمان الینا الیس ھٰذا بالحق۔ ترجمہ۔ یعنی اے میرے رب مجھے دکھلا کہ تو کیونکر مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ اے میرے رب مغفرت فرما اور آسمان سے رحم کر۔ اے میرے رب مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو خیر الوارثین ہے۔ اے میرے رب امت محمدیہ کی اصلاح کر۔ اے ہمارے رب ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کردے اور تو سب فیصلہ کرنیوالوں سے بہتر ہے۔ یہ لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں اور خدا اپنے نور کو پورا کرے گا۔ اگرچہ کافر کراہت ہی کریں۔ جب ؔ خدا کی مدد آئے گی اور اس کی فتح نازل ہوگی اور دلوں کا سلسلہ ہماری طرف رجوع کرے گا اور ہماری طرف آ ٹھہرے گا۔ تب کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہیں تھا۔ اس تمام الہام میں یہ پیشگوئی ہے کہ ضروری ہے کہ قوم مخالفت کرے اور اس سلسلہ کے نابود کرنے کے لئے پوری کوشش کرے اور ہرگز نہ چاہے کہ یہ سلسلہ قائم رہ سکے لیکن خدا اس سلسلہ کو ترقی دے گا یہاں تک کہ زمانہ اسی طرف الٹ آئے گا اور بعد اس کے کہ لوگوں نے اکیلا چھوڑ دیا ہوگا پھر اس طرف رجوع کریں گے۔ اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے پوری ہوئیؔ براہین احمدیہ کے زمانہ میں علماء کا کچھ شور و غوغا نہ تھا بلکہ جو تکفیر کے فتنہ کا بانی ہے اس نے کمال ثناء و صفت سے براہین احمدیہ کا ریویو لکھا تھا پھر ایک مدت دراز کے بعد تکفیر کا طوفان اٹھا اور ایک مدت تک اپنا زور دکھلاتا رہا اور اب پھر الہام الٰہی کے موافق وہ سیلاب کچھ کم ہوتا جاتا ہے اور وہ وقت آتا ہے کہ نور کی نمایاں فتح اور تاریکی کی کھلی کھلی شکست ہو۔ بیسویں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں آتھم کی نسبت ہے جو ص ۲۴۱