۱؂ یعنی جنہوں نے گوسالہ پرستی کی ان پر غضب کا عذاب پڑے گا اور دنیا کی زندگی میں ان کو ذلت پہنچے گی اور اسی طرح ہم دوسرے مفتریوں کو سزا دیں گے اور یہ ایک لطیف اشارہ ان گوسالہ پرستوں کی طرف بھی ہے جو اس دوسرے گوسالہ یعنی لیکھرام کی پرستش کرنے میں ظلم اور خونریزی کے ارادوں تک پہنچ گئے خدا تعالیٰ کے علم سے کوئی شے باہر نہیں وہ خوب جانتا تھا کہ ہندو بھی لیکھرام کی پرستش کر کے اس کو گوسالہ بنائیں گے۔ اس لئے اس نے کذالک کے لفظ سے لیکھرام کے قصہ کی طرف اشارہ کر دیا۔ توریت خروج باب ۳۲ آیت ۳۵ سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر گوسالہ پرستی کے سبب سے موت بھیجی تھی یعنی ایک وباء ان میں پڑ گئی تھی جس سے وہ مرگئے تھے۔ اور اس عذاب کی خبر کے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ ایمان لائیں گے میں ان کو نجات دوں گا جیسا کہ فرماتا ہے۔ 3 3 ۲؂ یعنی جنہوں نے گوسالہ پرستی کی دھن میں برے کام کئے پھر بعد اس کے توبہ کی اور ایمان لائے تو خدا تعالیٰ ایمان کے بعد ان کے گناہ بخش دے گا اور ان پر رحم کرے گا کیونکہ وہ غفور اور رحیم ہے۔ اورؔ لیکھرام کے مقدمہ میں آیت کریمہ کا یہ اشارہ ہے کہ جنہوں نے ناحق الہام کی تکذیب کی اور قتل کی سازشیں کیں اور گورنمنٹ کو قتل کیلئے بھڑکایا اور پھر بعد اس کے توبہ کی اور ایمان لائے تو خدا ان پر رحم کرے گا۔ اسی مقام کے متعلق اس عاجز کو الہام ہوا ہے یا مسیح الخلق عدوانا یعنی اے خلقت کے لئے مسیح ہماری متعدی بیماریوں کے لئے توجہ کر اور براہین احمدیہ کے ص ۵۱۹ میں اسی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ وہ عزاسمہ فرماتا ہے انت مبارک فی الدنیا والاٰخِرَۃِ امراض الناس و برکاتہ ان ربّک فعّال لما یرید یعنی تجھے دنیا اور آخرت میں برکت دی گئی ہے خدا کی برکتوں کے ساتھ لوگوں کی بیماریوں کی خبر لے کہ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ دیکھو یہ کس زمانہ کی خبریں ہیں اور نہ معلوم کس وقت پوری ہوں گی ایک وہ وقت ہے جو دعا سے مرتے ہیں اور