صورت موت بتلائی گئی تھی یعنی یہ کہ کس طرح مرے گا بیماری سے یا قتل سے اور پیشگوئی کے اشارات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس گوسالہ کی ثنا خوانی کو پرستش تک پہنچایا اور سچائی کا خون کیا اور اس کی تعریف میں غلو کیا وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں اس قوم کی طرح ہیں جنہوں نے سامری کے گوسالہ کی پرستش کی تھی اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف میں فرماتا ہے 3
کہ لیکھرام چھ ۶ سال کے عرصہ میں مر جائے گا۔ اور اسی بشارت کی طرف انجام آتھم کے قصیدہ میں وہ شعر جو بماہ ستمبر ۱۸۹۶ء شیخ محمد حسین بٹالوی کو مخاطب کر کے لکھے گئے ہیں اشارہ کر رہے ہیں اور جیسا کہ تعرف کا لفظ ستعرف یوم العید میں موجود ہے اس قصیدہ میں بھی محمد حسین کو مخاطب کر کے ستعرف موجود ہے اور جیسا کہ وہ قصیدہ جس میں یہ الہام ہے یعنی ستعرف العید والعید اقرب محمد حسین کیلئے اور اس کو مخاطب کر کے لکھا گیا تھا۔ ایسا ہی اس قصیدہ میں بھی محمد حسین بٹالوی مخاطب ہے اور وہ شعر یہ ہیں:
تب ایھا الغالی و تأ تی سَاعۃ
تمشی تعض یمینک الشلَّاء
اے غلو کرنے والے توبہ کر کیونکہ وہ وقت آتا ہے
کہ تو اپنے خشک ہاتھ کو کاٹے گا
تأؔ تیک ایاتی فتعرف وجھھا
فاصبر ولا تترک طریق حیاء
میرے نشان تیرے تک پہنچیں گے پس تو انہیں شناخت کرلے گا
پس صبر کر اور حیا کا طریق مت چھوڑ
انی لشرّ الناس ان لم یاتنی
نصر من الرحمٰن للاعلاء
میں تمام مخلوقات میں سے بدتر ہوں گا
اگر خدا کی مدد مجھ کو میرے بلند کرنے کے لئے نہ پہنچے
ھل تطمع الدنیا مذلّت صادق
ھیھات ذاک تخیل السفھاء
کیا دنیایہ امید رکھتی ہے کہ صادق ذلیل ہو جائے گا
یہ کہاں ممکن ہے بلکہ یہ تو سادہ لوحوں کا خیال ہے
من ذالذی یخزی عزیز جنابہ
الارض لا تفنی شموس سماء
خدا کے عزیز کو کون ذلیل کر سکتا ہے
کیا زمین کو طاقت ہے جو آسمانی آفتاب کو فنا کرے
یا ربنا افتح بیننا بکرامۃ
یا من یری قلبی و لب لحا ئی
اے میرے رب ایک کرامت دکھلا کر ہم میں فیصلہ کر
اے وہ خدا جو میرے دل اور میرے وجود کے مغز کو جانتا ہے
منہ