خدا کی گواہی لیکھرام کے مارے جانے کا نشان تھا جس نے مخالفوں کی کمر توڑ دی یہ پیشگوئی جن لوازم اور تصریحات کے ساتھ بیان کی گئی اور شائع کی گئی تھی وہ تمام لوازم ایسے تھے کہ کوئی دانا باور نہیں کرے گا کہ ان کا انجام دینا انسان کے حد اختیار میں ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں میعاد بتلائی گئی تھی دن بتایا گیا تھا* تاریخ بتلائی گئی تھی وقت بتلایا گیا اورؔ حاشیہ۔ خروج باب ۳۲ سے ثابت ہوتا ہے کہ گوسالہ سامری کے نیست و نابود کرنے کا ارادہ یہودؔ کی عید کے دن میں کیا گیا تھا مگر آگ میں جلانا اور باریک پیسنا اور غبار کی مانند بنانا جیسا کہ ۲۰ ۲۳ خروج میں لکھا ہے یہ فرصت طلب کام تھا اس برے کام نے ضرور رات کا کچھ حصہ لیا ہوگا کیونکہ حضرت موسیٰ اس وقت اترے تھے جب گوسالہ پرستی کا میلہ خوب گرم ہوگیا تھا اور یہ وقت غالباً دوپہر کے بعد میں ہوگا اور پھر کچھ عرصہ ناراضگی اور غضب میں گذرا۔ لہذا یہ قطعی امر ہے کہ سونے کا جلانا اور خاک کی طرح کرنا کچھ حصہ رات تک جو دوسرے دن میں محسوب ہوتے ہی ختم ہوا ہوگا۔ سو خدا تعالیٰ نے لیکھرام کے لئے گوسالہ سامری کا نام اختیار فرمایا۔ اس نام میں یہ بھید پوشیدہ تھا کہ عید کے دوسرے دن میں اس کی تباہی کا سامان ہوگا جیسا کہ گوسالہ سامری کا ہوا۔ اور چونکہ گوسالہ پر اکثر چھری پھرتی ہے اسؔ لئے عجل کے لفظ میں بھی جو الہام میں اختیار کیا گیا ہے یہ طریق موت مخفی ہے اور لیکھرام کی موت کی نسبت جو یہ پیشگوئی ہے کہ وہ عید کے دوسرے دن قتل کیا جائے گا۔ اس میں الہام الٰہی وہ ہے کہ جو کتاب کرامات الصادقین کے ص ۵۴ میں لکھا ہوا ہے یعنی ستعرف یوم العید والعید اقرب اسؔ کے پہلے کا شعر یہ ہے الا انّنی فی کل حرب غالبٌ۔ فکدنی بمازوّرت فالحق یغلب یعنی میں ہر ایک جنگ میں غالب ہوں پس دروغ آرائی سے جس طرح چاہے مکر کرپس حق غالب ہو جائے گا۔ اور وہ یہ ہے و بشّرنی ربی و قال مبشّرا ۔ ستعرف یوم العید والعید اقرب یعنی میرے رب نے مجھے بشارت دی اور بشارت دے کر کہا کہ تو عنقریب عید کے دن کو یعنی خوشی کے دن کو پہچان لے گا اور اس دن سے معمولی عید بہت قریب ہوگی یعنی حق کے غالب ہونے کا وہ دن ہوگا۔ اس لئے مومنوں کی وہ عید ہوگی اور معمولی عید اس سے ملی ہوئی ہوگی اور اسی شعر کی تشریح ٹائٹل پیج یعنی سرورق کے صفحہ اخیر اسی کتاب کرامات الصادقین میں لکھی ہوئی ہے اور یہی لفظ و بشّرنی ربّی جو اس شعر کے سر پر ہے وہاں بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ و بشرنی ربی بموتہ فی ستّ سنۃ ان فی ذالک لاٰیۃ للطالبین۔ یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی