یعنی وہ لوگ تیری مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ ڈالیں گے وہ دور دور سے اور بڑی گہری راہوں سے آئیں گے۔ چنانچہ اب وہ پیشگوئی جو آج کے دن سے سترہ برس پہلے لکھی گئی تھی ظہور میںؔ آئی کس کو معلوم تھاکہ ایسے سچے اخلاص اور محبت سے لوگ مدد میں مشغول ہو جائیں گے دیکھو کہاں اور کس فاصلہ پر مدراس ہے جس میں سے خداتعالیٰ کا ارادہ سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا کو معہ ان کے تمام عزیزوں اور دوستوں کے کھینچ لایا جنہوں نے آتے ہی اخلاص اور خدمات میں وہ ترقی کی کہ صحابہ کے رنگ میں محبت پیدا کرلی اورکہاں ہے بمبئی جس میں منشی زین الدین ابراہیم جیسے مخلص پرجوش طیار کئے گئے اور کہاں ہے حیدر آباد دکن جس میں ایک جماعت پرجوش مخلصوں کی طیار کی گئی کیا یہ وہی باتیں نہیں جن کی نسبت پہلے سے براہین میں خبر دی گئی تھی۔ اٹھارھویں پیشگوئی یہ پیشگوئی وہ ہے کہ جو براہین احمدیہ کے ص ۲۴۰ میں مندرج ہے یعنی یہ قل عندی شھادۃ من اللّٰہ فھل انتم مؤمنون۔ قل عندی شھادۃ من اللّٰہ فھل انتم مسلمون۔ یعنی کہہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے پس کیا تم اس پر ایمان لاؤ گے۔ کہہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو قبول کرو گے۔ یہ دونوں فقرے بطور پیشگوئی کے ہیں اور ایسے نشانوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو بطور پیشگوئی کے ہوں کیونکہ خدا کی گواہی نشان دکھلاتی ہے چنانچہ بعد اس کے یہ گواہی دی کہ خسوف کسوف رمضان میں کیا جیسا کہ آثار میں مہدی موعود کی نشانیوں میں آ چکا تھا۔ پھر دوسری گواہی خدا نے یہ دی کہ آتھم کی پیشگوئی پر عیسائیوں نے واقعات کو چھپا کر مکر کیا اور یہودی صفت مولویوں نے ان کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائی اور وہ شیطانی آواز تھی جو عیسائیوں کی حمایت میں زمین کے شیطانوں یعنی مولویوں نے دی پھر خدا نے اخفائے شہادت کے بعد آتھم کو ہلاک کیا اور اس پیشگوئی کی تصدیق کیلئے لیکھرام کے نشان کو ظاہر کیا اور وہ آسمانی آواز تھی جس نے شیطانی آواز کو کالعدم کر دیا یہی آثار نبویہ میں پہلے سے لکھا ہوا تھا جو آتھم کی پیشگوئی میں پورا ہوا تیسری خدا کی گواہی وہ پیشگوئی تھی جو جلسہ مذاہب سے پہلے شائع کی گئی تھی۔ چوتھی