سے پہلے بنایا ہوگا کیونکہ یہ مرہم حواریوں نے طیار کیا تھا اور نبوت سے پہلے حواری کہاں تھے یہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ ان زخموں کا کوئی اور باعث ہوگا نہ صلیب کیونکہ نبوت کے تین برس کے عرصہ میں کوئی اور ایسا واقعہ بجز صلیب ثابت نہیں ہو سکتا اور اگر ایسا دعویٰ ہو تو بار ثبوت بذمّہ مدعی ہے۔ جائے شرم ہے کہ یہ خدا اور یہ زخم اور یہ مرہم واقعی صحیح اور سچی حقیقتوں پر کہاں کوئی پردہ ڈال سکتا ہے اور کون خدا کے ساتھ جنگ کر سکتا ہے۔ ہمیشہ کے لئے حیّ قیوم صرف وہ اکیلا خدا ہے جو تجسم اور تحیز سے پاک اور ازلی ابدی ہے اور جھوٹے خدا کے لئے اتنا ہی غنیمت ہے کہ اس نے ایک ہزار نو سو برس تک اپنی خدائی کا سکہ قلب چلا لیا آگے یاد رکھو کہ یہ جھوٹی خدائی بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ وہ دن آتے ہیں کہ عیسائیوں کے سعادت مند لڑکے سچے خدا کو پہچان لیں گے اور پرانے بچھڑے ہوئے وحدہ لا شریک کو روتے ہوئے آ ملیں گے۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ وہ روح کہتی ہے جو میرے اندر ہے جس قدر کوئی سچائی سے لڑ سکتا ہے لڑے جس قدر کوئی مکر کر سکتا ہے کرے بیشک کرے۔ لیکن آخر ایسا ہی ہوگا۔ یہ سہل بات ہے کہ زمین و آسمان مبدّل ہو جائیں یہ آسان ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں لیکن یہ وعدے مبدّل نہیں ہوں گے۔ سترہویں پیشگوئی یہ پیشگوئی وہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۳۹ میں درج ہے اور وہ یہ ہے یتم نعمتہ عَلَیک لیکون اٰیۃ للمؤمنین۔ یعنی خدا اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کرے گا تا وہ مومنین کیلئے نشان ہوں یعنی دنیا کی زندگی میں جو کچھ نعمتیں دی جائیں گی وہ سب بطور نشان ہوں گی یعنی قول بھی نشان ہوگا جیسا کہ لوگوں نے جلسہ مذاہب لاہور اور عربی کتابوں میں دیکھ لیا۔ اور فعل بھی نشان ہوگا جیسا کہ خدا کے فعل بطورنشان میرے واسطہ سے ظہور میں آرہے ہیں اور اولاد بھی نشان ہو گی خدا نے نیک اور بابرکت اولاد کا وعدہ دیا اور پورا کیا اور خدا کی مالی نصرت بھی نشان ہو گی۔ جیسا کہ خدا نے براہین احمدیہ میں مالی نصرت کا وعدہ دیا ہے اور وہ وعدہ اب پورا ہوا اور پورب اور پچھم سے لوگ آئے اور مشرق اور مغرب سے معاون پیدا ہوئے اور جیسا کہ صفحہ ۲۴۱ میں فرمایا تھا ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء یأتون من کل فج عمیق