کر دیتا دیکھو خدا فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی غیب کو چنے ہوئے فرستادوں کے سوا کسی پر نہیں کھولا جاتا۔ اب سوچو اور خوب غور سے اس کتاب کو پڑھو کہ کیا وہ غیب جس کی اس آیت میں تعریف ہے کامل طور پر پیش نہیں کیا گیا میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ تمہیں دکھایا گیا اگر ان اندھوں کو دکھایا جاتا کہ اس صدی سے پہلے گذر گئے تو وہ اندھے نہ رہتے سو تم روشنی کو پاکر اس کو ردّ نہ کرو خدا تمہیں روشن آنکھیں دینے کے لئے طیار ہے اور پاک دل بخشنے کیلئے مستعد ہے وہ نئے طور سے اپنی ہستی تم پر ظاہر کرنا چاہتا ہے اس کے ہاتھ ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کے لئے لمبے ہوئے ہیں سو تم مزاحمت مت کرو اور سعادت سے جلد جھک جاؤ تم اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور اپنی ذرّیت کے دشمن نہ بنو تا خدا تم پر رحم کرے اور تا وہ تمہارے گناہ بخشے اور تمہارے دنوں میں برکت دے۔ دیکھو آسمان کیا کر رہا ہے اور زمین کو کیونکر خدا کھینچؔ رہا ہے افسوس کہ تم نے صدی کے سر کو بھی بھلا دیا۔ پندرہویں پیشگوئی جو آتھم کی پیشگوئی اور لیکھرام کی پیشگوئی سے نہایت مناسبت رکھتی ہے وہ الہام ہے جو آتھم کی میعاد گذرنے کے بعد رسالہ انوارالاسلام میں شائع کیا گیا تھا وہ یہ ہے اطلع اللّٰہ علی ھَمِّہٖ و غمّہ و لن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا۔ ولا تعجبوا ولا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین۔ و بعزّتی و جلالی انّک انت الاعلٰی۔ و نمزق الاعداء کُلّ ممزق۔ انا نکشف السرّعن ساقہٖ۔ یومئذ یفرح المؤمنون۔ ثُلّۃ من الاولین و ثُلّۃ من الاٰخرین۔ ھذہ تذکرہ فمن شاء اتخذالی ربّہٖ سبیلا۔ یعنی خدا نے دیکھا کہ آتھم کا دل ہم و غم سے بھرگیا اور خدا کی سنّت میں تو تبدیلی نہیں پائے گا یعنی وہ ڈرنے والے دل کے لئے عذاب کی پیشگوئی کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے یہی اس کی سنت ہے۔ اور پھر فرمایا کہ جو واقعہ پیش آیا اس سے کچھ تعجب مت کرو اور اگر تم ایمان پر قائم رہو گے تو آخر غلبہ تمہیں کو ہوگا۔ اور مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ آخر تو ہی غالب ہوگا۔ اور ہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں گے ہم الہامی پیشگوئی کے مخفی امور کو اس کی پنڈلی سے ننگا کر کے دکھائیں گے اس دن مومنین خوش ہوں گے الجن: ۲۷،