پہلا گروہ بھی اور پچھلا گروہ بھی یہ خدا کی طرف سے ایک یاد دہانی ہے سو جو چاہے قبول کرے۔ اب دیکھو کہ یہ پیشگوئی تین برس سے کچھ زیادہ عرصہ کی ہے یعنی اس وقت کی کہ جب آتھم کی میعاد کا آخری دن تھا اس میں خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ یہ اثر پیشگوئی کا جو نادانوں پر مشتبہ ہے اس کو ہم ننگا کر کے دکھلا دیں گے پس اس نے لیکھرام کے نشان کے بعد اپنے وعدے کے موافق اس مخفی امر کو ننگا کر کے دکھلا دیا اور براہین احمدیہ کی پیشگوئیوں کو ایک آئینہ کی طرح آگے رکھ دیا۔ پس اس کا یہ فضل اس زمانہ پر ہے جو اس نے نئی معرفت کا سرچشمہ کھولا مبارک وہ جو اس سے حصہ لیوے اور یہ جو فرمایا تھا کہ پہلا گروہ بھی اس وقت خوش ہوگا اور پچھلا گروہ بھی یہ تمام پیشگوئیاں اس وقت ظہور میں آگئیں چنانچہ لیکھرام کے نشان کے ظاہر ہونے سے اہل ایمان کی قوت ایمانی بہت بڑھ گئی اور ان کو وہ خوشی پہنچی جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے ہزاروں ایمانداروں پر رقت طاری ہوگئی اور وجد کے جوش سے خوشی آنسوؤں کے راہ سے نکلی گویا پوشیدہ خدا کو انہوں نے آنکھوں سے دیکھؔ لیا یہ عجیب واقعہ پیش آیا کہ ہندو اور آریہ تو لیکھرام کے غم سے روئے اور ایمانداروں اور صادقوں کا گروہ زیادت معرفت کی خوشی سے رویا براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۲ میں جو الہامات مندرجہ ذیل ہیں جو ایک پیشگوئی تھی وہ اسی نشان کے بعد کامل طور پر میں نے پوری ہوتی دیکھی اور وہ یہ ہے: اصحاب الصُّفۃ ط وما ادٰرک ما اصحاب الصُّفۃ ط تٰری اعینھم تفیض من الدمع یُصَلُّون عَلیْک۔ ربنا اننا سمعنا منادیًا ینادی للایمان و داعیًا الی اللّٰہ و سراجا منیرا۔ اَمْلُوا۔ ترجمہ۔حجرہ کے ہمنشین۔ اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں حجرہ کے ہمنشین۔ تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ تجھ پر درود بھیجیں گے۔ اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کرنے والے کو سنا جو تیرے نام کی منادی کرتا اور لوگوں کو ایمان کی طرف بلاتااور خدائے واحد لاشریک کی طرف دعوت کرتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے لکھ لو۔ اور انوارالاسلام کی مذکورہ بالا پیشگوئی میں یہ بھی صاف طور پر لکھاہے کہ اس نشان کے بعد ایک اور گروہ بھی اس جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے گا اور وہ دونوں گروہ اس نشان پر خوش ہوں گے۔ چنانچہ یہ پیشگوئی اب پوری ہو رہی ہے