سے براہین احمدیہ میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ اس بات کو بخوبی یاد رکھنا چاہئے کہ اگرچہ منکرین اپنی جہالت اور نادانی سے بات بات میں تکذیب کرتے ہیں اور ہر ایک پیشگوئی کو خلاف واقعہ قرار دیتے ہیں مگر وہ تکذیب ان کی جو ایک ہولناک فتنہ کے رنگ میں پیدا ہوئی اور بلوہ کی حد تک پہنچ گئی جس کے ساتھ ایک طوفان بے تمیزی کا اٹھا اور خطرناک نتیجے پیدا ہوئے وہ صرف تین مرتبہ وقوع میں آئی اسی کا نام براہین احمدیہ میں تین فتنہ عظیمہ رکھا گیا اور یہ کتاب یعنی براہین احمدیہ آج ؔ کے دن سے سترہ برس پہلے تمام ملک بلکہ بلاد عرب اور فارس تک شائع ہو چکی ہے۔ اور یہ تین فتنے جس قوت اور عظمت سے ظہور میں آئے اور جس ہیبت ناک شور کے ساتھ اس ملک کے کناروں تک ان کو پھیلایا گیا یہ ایسا امر نہیں ہے جو کسی سے مخفی رہا ہوبلکہ پنجاب اور ہندوستان کے مرد اور عورت اور ہندو اور مسلمان ان تینوں فتنوں کو ایسے طور سے یاد رکھتے ہیں کہ ہرگز امید نہیں کہ کبھی تذکرہ ان فتن ثلاثہ کا صفحۂ تواریخ میں سے مٹ سکے پس جو شخص ان تینوں فتنوں کے پُر ہیبت واقعات پر اطلاع پاکر پھر براہین احمدیہ میں ان کی خبر دیکھنا چاہے یا براہین احمدیہ میں ان تینوں فتنوں کی پیشگوئی پڑھ کر پھر واقعات خارجیہ میں ان کا نمونہ دیکھنا چاہے تو ان دونوں صورتوں میں یقین کامل اس کو ہو جائے گا کہ براہین احمدیہ میں انہیں تین فتنوں کا ذکر ہے جو ظہور میں آگئے یا یوں کہو کہ جو تین فتنے ظہور خارجی میں مشاہدہ کئے گئے وہ وہی تینوں ہیں جو براہین احمدیہ میں پہلے سے مندرج ہیں۔ اب سوچو کہ آتھم کے متعلق جو پیشگوئی تھی جس کی نسبت عیسائیوں اور یہودی صفت مولویوں نے شور مچایا اور لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی جس کی نسبت آریوں نے طوفان برپا کیا یہ دونوں کس چٹان مضبوط پر رکھی گئی ہیں۔ اے مسلمانوں کی اولاد حد سے بڑھتے نہ جاؤ ممکن ہے کہ انسان اپنی عقل اور اپنے اجتہاد سے ایک رائے کو صحیح سمجھے اور دراصل وہ رائے غلط ہو اور ممکن ہے کہ ایک شخص کو کاذب خیال کرے اور دراصل وہ سچا ہو تم سے پہلے بہت لوگوں کو دھوکے لگے تم کیا چیز ہو کہ تمہیں نہ لگیں پس ڈرو اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو تا امتحان میں نہ پڑو میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ انسان کا فعل ہوتا تو کب کا تباہ کیا جاتا اور قبل اس کے جو تمہارا ہاتھ اٹھتا خدا کا ہاتھ اس کو تباہ