اپنی تحریروں اور چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے مخالفوں اور موافقوں میں پیش ازوقت شائع کر دیا ہو اور اپنی عظمت میں میری پیشگوئیوں کے مساؔ وی ہوں اس زمانہ میں دکھاویں جن میں الٰہی قوت محسوس ہو تب بھی میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔ اور قسم کیلئے ضروری ہوگا کہ جو صاحب قسم کھانے پر آمادہ ہوں وہ قادیان میں آکر میرے روبرو قسم کھاویں میں کسی کے پاس نہیں جاؤں گا یہ دین کا کام ہے پس جو لوگ باوجود مولویت کی لاف کے اس میں سستی کریں تو خود کاذب ٹھہریں گے اگر میرے جیسے شخص کو جس کا نام دجّال رکھتے ہیں مغلوب کرلیں تو گویا تمام دنیا کو بدی سے چھڑائیں گے اور قسم کے وقت یہ شرط نہایت ضروری ہوگی کہ میں ان کی قسم سے پہلے پورے دو گھنٹے تک عام جلسہ میں ان پیشگوئیوں کی سچائی کے دلائل ان کے سامنے بیان کروں گا تا وہ جلدی کر کے ہلاک نہ ہو جائیں اور نیز ان پر حجت پوری ہو اور ان کا حق نہیں ہوگا کہ بجز قسم کھانے کے ایک کلمہ بھی منہ پر لائیں خاموشی سے دو گھنٹے تک میرے بیان کو سنیں گے پھر حسب نمونہ مذکورہ قسم کھا کر اپنے گھروں میں جائیں گے اور یاد رہے کہ میں نے سیّد احمد خان صاحب کا نام منکرین کی مد میں اس لئے لکھا ہے کہ ان کو خدا کے اس الہام بلکہ وحی سے بھی انکار ہے جو خدا سے نازل ہوتی اور علم غیب کی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے چونکہ وہ بھی اب عمر کی منزل کو طے کر چکے ہیں میں نہیں چاہتا کہ وہ یورپ کے کورا نہ خیالات کی پیروی کر کے اس غلطی کو قبر میں لیجائیں اب گو وہ متوجہ نہ ہوں اور اس بات کو ٹھٹھے میں اڑائیں مگر میں نے تو جو تبلیغ کرنی تھی وہ کر چکا ہوں میں ڈرتا ہوں کہ میں پوچھا نہ جاؤں کہ ایک بندہ گم شدہ کو تم نے کیوں تبلیغ نہ کی۔
بعض نادان کہتے ہیں کہ ہر دفع عذاب اور موت کی پیشگوئیاں کیوں کی جاتی ہیں یہ نادان نہیں جانتے کہ ہر ایک نبی انذاری پیشگوئیاں کرتا رہا ہے اگر یہ روا نہیں ہے تو اس کے کیا معنے ہیں کہ مسیح موعود کے دم سے مخالف مریں گے۔
غرض یہ نو صاحب ہیں جو قسم کھانے کیلئے منتخب کئے گئے ہیں کیونکہ ہر ایک ان میں سے ایک جماعت اپنے ساتھ رکھتا ہے پس اس کے ساتھ فیصلہ کرنے سے جماعت کا فیصلہ
خود ضمناً ہو جائے گا۔ قسم کا یہی مضمون ہوگا کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور پہلے