زورشور سے ظہور میں آچکے نہیں بتلاتے اور گواہی نہیں دیتے کہ حقیقت میں ایک فتنہ عیسائیوں کی طرف سے بھی ہوا جس میں لاکھوں انسانوں کا شوروغوغا ہوا اور گروہ کے گروہ نہایت پُرجوش صورت میں بازاروں میں پھرتے تھے اور بہروپ نکالتے تھے اور دوسرا فتنہ حقیقت میں محمد حسین بٹالوی کی طرف سے ہوا جس نے مسلمانوں کے خیالات کو اس عاجز کی نسبت بھڑکتی ہوئی آگ کے حکم میں کر دیا اور بھائیوں کو بھائیوں سے اور باپوں کو بیٹوں سے اور دوستوں کو دوستوں سے علیحدہ کر دیا اور رشتے ناطے توڑ ڈالے۔ اور تیسرا فتنہ لیکھرام کی موت کے وقت اور نشان الٰہی کے ظاہر ہونے کے حسد سے ہندوؤں کی طرف سے ہوا اس فتنہ کے جوش میں کئی معصوم بچے قتل کئے گئے راولپنڈی میں قریباً چالیس۰۴ آدمیوں کو زہر دیاگیا اور مجھ کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور گورنمنٹ کو مشتعل کرنے کیلئے سعی کی گئی اور آئندہ معلوم نہیں کہ کیا کچھ کریں گے*اب بتلاؤ کہ کیا یہ سچ نہیں کہ جیسے براہین احمدیّہ میں تصریح اور تفصیل کے ساتھ تین فتنوں کا ذکر کیا گیا تھا وہ تینوں فتنے ظہور میں آگئے۔ کیا محمد۱ حسین بٹالوی۔ یا سیداحمد ۲ خا ن صاحب کے سی ایس آئی۔ یا نذیرحسین۳ دہلوی یا عبدالجبار۴ غزنوی یا رشیداحمد ۵ گنگوہی یا محمدبشیر بھو۶پالی یاغلام دستگیر قصو۷ری یاعبداللہ۸ ٹونکی پروفیسر لاہور۔ یا مولوی محمدحسن۹ رئیس لدھیانہ قسم کھاسکتے ہیں کہ یہ تین فتنے جن کا ذکر پیشگوئی کے طور پر براہین احمدیہ میں کیا گیا ہے ظہور میں نہیں آگئے۔ اگر کوئی صاحب ان صاحبوں میں سے میرے الہام کی سچائی کے منکر ہیں تو کیوں خلقت کو تباہ کرتے ہیں میرے مقابل پر قسم کھا جائیں کہ یہ تینوں فتنے جو براہین احمدیہ میں بطور پیشگوئی ذکر کئے گئے ہیں یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور اگر پوری ہوگئی ہیں تو اے خدائے قادر اکتالیس دن تک ہم پر وہ عذاب نازل کر جو مجرموں پر نازل ہوتا ہے پس اگر خداتعالیٰ کے ہاتھ سے اور بلاواسطہ کسی انسان کے وہ عذاب جو آسمان سے اترتا اور کھا جانے والی آگ کی طرح کذاب کو نابود کر دیتا ہے اکتالیس روز کے اندر نازل نہ ہوا تو میں جھوٹا اور میرا تمام کاروبار جھوٹا ہوگا اور میں حقیقت میں تمام لعنتوں کا مستحق ٹھہروں گا اور اگر وہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے اس قسم کی پیشگوئیاں جن کو خود بیان کرنے والے نے ۸؍اپریل ۱۸۹۷ء کومیرے گھر کی تلاشی کی گئی۔ منہ