کے قریب مکفر اور مکذب جامع مسجد میں میرے مقابل پر اکٹھے ہوئے تھے۔ اگر عنایت الٰہی شامل نہ ہوتی تو ایک خطرناک بلوہ برپا ہو جاتا۔ غرض اس فتنہ کا بانی محمد حسین بٹالوی تھا اور اس کے ساتھ نذیر حسین دہلوی تھا جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اس الہام میں فرمایا جو صفحہ ۵۱۱ میں درج ہے تبت یدا ابی لھب و تبّ۔ ما کان لہ ان یدخل فیھا الَّا خائفا یعنی دونوں ہاتھ ابی لہب کے ہلاک ہوگئے جس سے اس نے فتویٰ تکفیر لکھا اور وہ آپ بھی ہلاک ہوگیا۔ اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس مقدمہ میں دخل دیتا مگر ڈرتا ہوا۔ یہ فتنہ بھی پشاور سے لے کر کلکتہ بمبئی حیدر آباد اور تمام بلاد پنجاب اور ہندوستان میں پھیل گیا۔ اور جاہل مسلمانوں نے رافضیوں کی طرح مجھ پر *** بھیجنا ثواب کا موجب سمجھا۔ اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات ٹوٹ گئے اور بھائی بھائی سے اور بیٹا باپ سے علیحدہ ہوگیا۔ سلام ترک کیا گیا یہاں تک کہ ہماری جماعت میں سے کسی مُردہ کا جنازہ پڑھنا بھی موجب کفر سمجھا گیا۔ تیسرا فتنہ جو تیسرے درجہ پر ہے وہ فتنہ ہے جو اب لیکھرام کی موت پر کُھلاکُھلا نشان ظاہر ہونے کے وقت ہندوؤں سے وقوع میں آیا اور انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت تھی فتنہ کو انتہا تک پہنچایا اور قتل کے منصوبے کئے اور کر رہے ہیں اور گورنمنٹ کو اکسایا اور اکسا رہے ہیں۔*اس فتنہ کے ساتھ چونکہ ایک کھلا کھلا نشان ہے جس سے مخالفوں کے دلوں پر زلزلہ آگیا ہے اور فتح عظیم حاصل ہوئی ہے۔ اور بہت سے اندھے سوجاکھے ہوتے جاتے ہیں۔ اس لئے یہ فتنہ تیسرے درجہ پر ہے۔ یہ تین فتنے ہیں جن کا براہین احمدیہ میں آج سے سترہ برس پہلے ذکر ہے۔ اب اگر بڑےؔ سے بڑے متعصب مسلمان یا عیسائی یا ہندو کے سامنے یہ کتاب براہین احمدیہ رکھ دی جائے اور ان تینوں فتنوں کے مقامات اس کو دکھلائے جائیں اور حلفاًاس سے پوچھا جائے کہ یہ تینوں فتنے واقعی طور پر وقوع میں آ چکے یا نہیں۔ اور کیا یہ پیشگوئی کے طور پر براہین احمدیہ میں لکھے گئے تھے یا نہیں۔ اور کیا یہ واقعات ثلاثہ جو بڑے ۸؍اپریل ۱۸۹۷ء کو صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی معرفت خانہ تلاشی کرائی۔ منہ